
تصویر/آئی اے این ایس
’ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے‘ ہر سال 10 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ تقریباً ہر 7 میں سے ایک شخص کسی نہ کسی ذہنی صحت کے مسئلے سے پریشان ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ جن لوگوں کو خود ذہنی صحت کے مسائل کا تجربہ رہا ہے، وہ ہر سطح پر ذہنی صحت کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں، خواہ وہ خدمات کی منصوبہ بندی ہو، لوگوں تک پہنچانا ہو یا ان میں بہتری لانا ہو۔ باہمی تعاون سے ذاتی تجربہ رکھنے والے افراد اور ذہنی صحت کے نظام، پالیسی اور تحقیق کے شعبوں میں کام کرنے والے ماہرین مل کر دیکھ بھال کا ایسا نظام تشکیل دے سکتے ہیں، جو فرد پر مرکوز ہو، حقوق پر مبنی ہو اور جس میں احترام کو ترجیح دی جائے۔ کمیونٹی پر مبنی خدمات کو مضبوط بنائیں، دیکھ بھال کے تسلسل کو برقرار رکھیں اور ہر بات چیت کو بامعنی بنائیں۔
ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے سے قبل ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایک نئی گائیڈ جاری کی ہے۔ اس کا مقصد ممالک کی مدد کرنا ہے، تاکہ وہ ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے ایسے طریقۂ کار سے دور ہو سکیں، جس میں مریضوں کو طویل عرصے تک نفسیاتی اسپتالوں میں رکھا جاتا ہے، اور اس کے بجائے معاشرے میں ایسی دیکھ بھال اپنا سکیں جو لوگوں کے حقوق اور ان کی پسند کا احترام کرتی ہے۔ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار بہت سے لوگ اب بھی بڑے نفسیاتی اسپتالوں اور سماجی نگہداشت کے اداروں میں رہ رہے ہیں۔ ان میں سے تقریباً نصف افراد کو ان کی مرضی کے بغیر مہینوں، برسوں یا دہائیوں تک ان اداروں میں رکھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ بیرونی دنیا سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔
اس عمل کو ’ڈی انسٹی ٹیوشنلائزیشن‘ (ڈی آئی) کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت ان لوگوں کی مدد کی جاتی ہے، جنہوں نے نفسیاتی اسپتالوں میں طویل عرصہ 6 ماہ یا اس سے زیادہ گزارا ہو، تاکہ وہ اپنے معاشرے میں واپس لوٹ سکیں اور بہتر زندگی گزارنے کے لیے ضروری دیکھ بھال، مدد اور مواقع حاصل کر سکیں۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس اڈنوم گیبریئسس نے کہا کہ مسلسل ذہنی صحت کی مدد حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو اپنی آزادی، عزت و وقار یا اپنی برادری میں اپنا مقام نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ممالک کو طویل مدتی ادارہ جاتی نگہداشت پر انحصار کم کرنا چاہیے اور اداروں سے سرمایہ کاری ہٹا کر برادری میں حقوق پر مبنی ذہنی صحت کی دیکھ بھال اور مدد فراہم کرنے کے نظام کی جانب تیزی سے آگے بڑھنا چاہیے۔
کئی ممالک معاشرے پر مبنی ذہنی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن اس سلسلے میں پیش رفت یکساں نہیں ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ’مینٹل ہیلتھ اٹلس‘ سے معلوم ہوا ہے کہ رپورٹ پیش کرنے والے ممالک میں سے صرف9 فیصد ممالک ہی مکمل طور پر معاشرے پر مبنی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی جانب بڑھے ہیں، جبکہ نصف سے زیادہ (53 فیصد) ممالک اب بھی اصلاحات کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ نفسیاتی اسپتالوں میں داخل ہونے والے 4 میں سے ایک سے زیادہ (28 فیصد) افراد 6 ماہ سے زیادہ عرصے تک وہاں رہے۔
آزاد ’لوڈ ایکسپیرینس کنسلٹنٹ‘ اور ایڈوکیٹ گریس گٹیرا نے کہا کہ کمیونٹی پر مبنی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی جانب بڑھنے کا عمل ان لوگوں کے ساتھ مل کر انجام دیا جانا چاہیے، جو ادارہ جاتی نگہداشت سے گزرنے کے تجربے کو جانتے ہیں۔ ان کی مہارت، دیگر ماہرین کی مہارت کے ساتھ مل کر، ایسی خدمات تشکیل دینے کے لیے ضروری ہے، جو اپنی پسند کے مطابق علاج، صحت یابی اور کمیونٹی کی زندگی میں شرکت کو فروغ دیں۔ ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے کے موقع پر ڈبلیو ایچ او نے حکومتوں اور خدمات فراہم کرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ادارہ جاتی نگہداشت سے کمیونٹی پر مبنی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی جانب منتقلی کے عمل کو تیز کریں اور ذہنی صحت کے نظام کو ان لوگوں کے ساتھ مل کر تشکیل دیں، جنہیں اس کا ذاتی تجربہ ہے، نہ کہ صرف ان کے لیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔