تصویر بشکریہ سوشل میڈیا، گریب
جیفری ایپسٹین کی موت کو سات سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس کے جرائم کی تہہ دنیا کو چونکاتی رہتی ہے۔ ایپسٹین فائلز کی شکل میں سامنے آنے والی معلومات ایک بار پھر ثابت کر رہی ہیں کہ اس کی اندھیری دنیا اعلیٰ اور طاقتور سے کتنی گہرا ئی سے جڑی ہوئی تھی۔ اس ہنگامے کے درمیان، ایک کہانی جس کا زندہ بچ جانے والی اب زندہ نہیں ہے ایک بار پھر روشنی میں آ گئی ہے اور وہ ہے ورجینیا گیوفری کی کہانی۔
Published: undefined
ورجینیا گیوفری کی سوانح عمری،’نوبڈی گرل‘(Nobody's Girl) ان کی موت کے بعد شائع ہوئی۔ جیسے ہی یہ کتاب ان کی موت، 25 اپریل 2025 ، کے چھ ماہ بعد ریلیز ہوئی، اس نے ایک بڑا بین الاقوامی ہنگامہ کھڑا کردیا۔ اس کتاب نے نہ صرف ان مظالم کا پردہ فاش کیا جو اس نے سہے بلکہ ان طاقتور افراد کو بھی بے نقاب کیا جن کے لیے اسے بار بار ادھار بھیجا جاتا تھا۔
Published: undefined
کتاب کا سب سے چونکا دینے والا پہلو ورجینیا گیوفری کا یہ دعویٰ تھا کہ ایک "مشہور وزیر اعظم" نے اس کے ساتھ وحشیانہ زیادتی کی۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق اس انکشاف نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی۔ تاہم کتاب میں اس شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ امریکی ایڈیشن میں ان کا ذکر "مشہور وزیر اعظم" کے طور پر کیا گیا ہے جبکہ برطانوی ایڈیشن میں انہیں "سابق وزیر" کہا گیا ہے۔ یہ اختلافات معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
Published: undefined
ورجینیا گیوفری نے اپنے تجربات کی وضاحت کی تاکہ دنیا اس خوفناک آزمائش کو سمجھ سکے جو اس نے برسوں تک برداشت کی تھی۔ اس کے مطابق، ایپسٹین اور اس کے حلقے نے اسے بار بار امیر اور طاقتور افراد کے ساتھ جگہوں پر بھیجا۔ وہاں اسے جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کا گلا گھونٹ دیا گیا، مارا پیٹا گیا اور یہاں تک کہ خون بھی نکلا۔
Published: undefined
ورجینیا گیوفری کا سب سے ہولناک واقعہ کیریبین کے ایپسٹین جزیرے پر پیش آیا۔ کتاب میں، وہ لکھتی ہیں کہ اسے ایک ایسے شخص کے پاس بھیجا گیا جس نے اسے سب سے زیادہ وحشیانہ حملے کا نشانہ بنایا جس کا اس نے کبھی تجربہ نہیں کیا تھا۔ اس نے بار بار اس کا گلا گھونٹ دیا، اسے بے ہوش کر دیا، اور اس کی جان کے خوف پر ہنسا۔ورجینیا گیوفری کا کہنا ہے کہ اس نے اس سے رحم کی بھیک مانگی، لیکن اس نے اسے مزید پرتشدد بنا دیا۔اس واقعے کے بعد، ورجینیا گیوفری نے ایپسٹین سے التجا کی کہ وہ اسے دوبارہ اس آدمی کے پاس نہ بھیجے۔ ایپسٹین کا جواب تھا، "کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے۔"
Published: undefined
سی این این کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موت کے چھ ماہ بعد شائع ہونے والی اس کتاب نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔ وجہ یہ ہے کہ کتاب نے نہ صرف ایپسٹین کے نیٹ ورک کی بربریت کو بے نقاب کیا بلکہ ان مشکلات کا بھی انکشاف کیا جو ورجینیا گیوفری جیسے بچ جانے والوں نے برداشت کیں۔ (بشکریہ نیوز پورٹل ’آج تک‘)
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز