سوشل میڈیا پر ’چائلڈ پورنوگرافی‘ معاملہ میں سپریم کورٹ کا سخت رخ، مرکزی حکومت کو جاری کیا نوٹس

’جسٹ رائٹس فار چائلڈ‘ نامی ایک این جی او کی جانب سے دائر درخواست میں سپریم کورٹ میں کہا گیا تھا کہ مرکز اور سوشل میڈیا انٹرمیڈیری سپریم کورٹ کے 2024 کے فیصلے پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>
i

سپریم کورٹ نے جمعہ کو مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ’انسٹاگرام‘ اور ’ایکس‘ بچوں کے جنسی استحصال کے معاملات کی اطلاع پولیس اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کو کیوں نہیں دے رہے ہیں۔ 2024 میں سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا تھا کہ ’چائلڈ پورنوگرافی‘ دیکھنا اور ڈاؤنلوڈ کرنا جرم ہے اور ’سوشل میڈیا انٹرمیڈیری‘ کے لیے ایسے مواد کی اطلاع پولیس کو دینا ضروری ہے۔ اگر سوشل میڈیا انٹرمیڈیری ایسے معاملات کی اطلاع پولیس کو نہیں دیتے ہیں تو وہ مجرمانہ طور پر جوابدہ بن جاتے ہیں۔

دراصل ’جسٹ رائٹس فار چائلڈ‘ نامی ایک این جی او کی جانب سے دائر درخواست میں سپریم کورٹ میں کہا گیا تھا کہ مرکز اور سوشل میڈیا انٹرمیڈیری سپریم کورٹ کے 2024 کے فیصلے پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ اس پر سپریم کورٹ نے مرکز کو نوٹس جاری کیا اور پوچھا کہ سوشل میڈیا انٹرمیڈیری چائلڈ پورنوگرافی کی اطلاع پولیس کو کیوں نہیں دے رہے ہیں؟ آج ہوئی سماعت کے دوران سینئر وکیل ایچ ایس پھلکا نے کہا کہ ’’ان دنوں جاری اس مسئلے سے متعلق کہ انسٹاگرام پر بچوں کے جنسی استحصال کی ویڈیوز نہ صرف تیزی سے پھیل رہی ہیں بلکہ انہیں فعال طور پر فروغ بھی دیا جا رہا ہے، حکومت ہند نے بہت سخت اقدامات کیے ہیں۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ 2 ستمبر 2024 کو سپریم کورٹ نے ’چائلڈ پورنوگرافی‘ سے متعلق ایک انتہائی اہم فیصلہ سنایا تھا۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا تھا کہ سوشل میڈیا چلانے والے تمام افراد (یہ انٹرمیڈیری خواہ میٹا ہو، ٹیلی گرام ہو یا کوئی بھی اور جو انہیں چلا رہا ہو) کی ذمہ داری ہے کہ جب بھی بچوں کے جنسی استحصال کی کوئی ویڈیو سامنے آئے تو وہ نہ صرف اسے بلاک کریں بلکہ پولیس کو اس کی اطلاع بھی دیں۔‘‘

جب آج اس معاملہ پر سماعت ہوئی تو ایڈووکیٹ ایچ ایس پھلکا نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سوشل میڈیا سے چائلڈ پورنوگرافی ڈاؤنلوڈ کرنے اور دیکھنے والوں کے خلاف پاکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانے کی بات کہی ہے۔ ایسی ویڈیوز ڈاؤنلوڈ کر کے وائرل کرنے والوں کے خلاف 7 سال تک کی سزا ہے۔‘‘ اب چونکہ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے اس معاملے میں جواب طلب کیا ہے، تو دیکھنا ہوگا کہ مرکز کا رد عمل کیا ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔