
جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (جے اے ایکس اے) نے منگل کے روز اپنے ایچ-3 راکٹ کے ذریعے مارٹین مونز ایکسپلوریشن (ایم ایم ایکس) خلائی جہاز کو روانہ کیا۔ اس مشن کا مقصد مریخ کے 2 چاند میں سے ایک فوبوس کی سطح سے چٹانوں اور مٹی کے نمونے جمع کر کے انہیں زمین پر واپس لانا ہے۔ جاپانی خبر رساں ایجنسی کیوڈو کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا مشن ہے، جس میں مریخ کے کسی چاند سے نمونے لاکر زمین پر تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تقریباً 57.8 کروڑ ڈالر کے تخمینے والے اس مشن کے تحت 10 گرام مٹی اور چٹانی مادہ جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان نمونوں کے ساتھ خلائی جہاز کے 2031 میں زمین پر واپس آنے کا امکان ہے۔
جاپان کے جنوب مغرب میں واقع تانیگاشیما خلائی مرکز سے مقامی وقت کے مطابق منگل کی صبح 4 بج کر 41 منٹ پر راکٹ نے پرواز بھری۔ راکٹ کی روانگی کے تقریباً ایک گھنٹے بعد خلائی جہاز کے راکٹ سے کامیابی کے ساتھ الگ ہونے کی تصدیق کی گئی۔ اس کامیابی کے ساتھ جاپان نے مریخ کے چاند کی تلاش کے ایک نئے مرحلے میں قدم رکھ دیا ہے۔ مریخ کے دو قدرتی سیارے ہیں، فوبوس اور ڈیموس۔ بے قاعدہ شکل اور گڑھوں سے بھرے ان چاندوں کے بارے میں سائنس دانوں کے پاس اب بھی محدود معلومات ہیں۔ فوبوس مریخ کے زیادہ قریب ہے اور تقریباً 6000 کلومیٹر کے فاصلے پر اس کے گرد گردش کرتا ہے۔ یہ مریخ کے گرد ایک دن میں تقریباً 3 چکر لگاتا ہے۔
سائنس دانوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان دونوں چاند کی پیدائش کیسے ہوئی؟ ایک نظریے کے مطابق مریخ سے کسی بڑے فلکیاتی جسم کے ٹکرانے کے بعد نکلنے والے ملبے سے یہ چاند بنے ہوں گے۔ دوسرے نظریے کے مطابق یہ دراصل سیارچے ہیں، جنہیں مریخ کی کشش ثقل نے اپنی جانب کھینچ کر اپنے مدار میں شامل کر لیا۔ فوبوس کی مٹی اور چٹانوں کا تفصیلی مطالعہ ان دونوں امکانات کے درمیان فرق واضح کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ یہ امید بھی ہے کہ ان نمونوں میں مریخ کی سطح سے نکلنے والے مادے کے ذرات ملیں گے۔ اس سے سائنس دانوں کو سرخ سیارے کی ارضیاتی تاریخ اور اس کے آس پاس موجود مادے کی ساخت کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔
تقریباً 5 ٹن وزنی ایم ایم ایکس خلائی جہاز کے اگست 2027 تک مریخ کے علاقے میں پہنچنے کی امید ہے۔ اس کے بعد یہ فوبوس کے آس پاس رہ کر اس کی سطح، ساخت اور کشش ثقل کا مطالعہ کرے گا۔ جے اے ایکس اے کے مطابق اس مشن میں فرانس اور جرمنی کے تعاون سے تیار کیا گیا ’ایڈیفکس‘ نام کا ایک چھوٹا روور بھی شامل ہے۔ اسے فوبوس کی سطح پر اتار کر تقریباً 100 دنوں تک سروے کرنے کا منصوبہ ہے۔ روور ایسی جگہوں کی نشاندہی کرے گا، جہاں مرکزی خلائی جہاز محفوظ طریقے سے اتر کر نمونے جمع کر سکے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔