ویڈیو: ’ادب نامہ‘ میں حفیظ میرٹھی کی مزاحمتی شاعری، بے باک لہجہ اور اصول پسندی پر گفتگو

’ادب نامہ‘ میں معین شاداب نے حفیظ میرٹھی کی شاعری، سیاسی طنز، مزاحمتی لہجہ اور اصول پسندی پر گفتگو کی۔ نشست میں ان کے شعری سفر، قید اور یش بھارتی ایوارڈ سے انکار کا بھی ذکر ہوا

نیشنل ہیرالڈ، نوجیون اور قومی آواز کے مشترکہ ادبی پروگرام ’ادب نامہ‘ کی خصوصی نشست میں اردو ادب کے معروف شاعر حفیظ میرٹھی کی زندگی، شاعری اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔ معروف شاعر، ناظمِ مشاعرہ اور ادبی مبصر معین شاداب نے حفیظ میرٹھی کے شعری سفر، ان کے منفرد اسلوب، سیاسی طنز اور اصول پسندی پر روشنی ڈالی۔

گفتگو کے دوران بتایا گیا کہ حفیظ میرٹھی کی ابتدائی شاعری پر جگر مرادآبادی کے اثرات نمایاں تھے، لیکن وقت کے ساتھ ان کی شاعری نے ایک الگ شناخت قائم کی۔ ان کے کلام میں سماجی ناانصافی، ظلم، سیاسی منافقت اور محروم طبقات کے مسائل کی ترجمانی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔

پروگرام میں ان کی گرفتاری اور قید کے تجربات کا بھی ذکر کیا گیا۔ معین شاداب نے حفیظ میرٹھی کی سادگی، خودداری اور اصولوں سے وابستگی کو ان کی شخصیت کے اہم پہلو قرار دیا۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد فرقہ وارانہ حالات کے تناظر میں یش بھارتی ایوارڈ قبول نہ کرنے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے نظریاتی عزم کو بھی اجاگر کیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔