کیرلم حکومت اسکولوں میں ’جنک فوڈ‘ کی فروخت پر لگائے گی لگام!
وزیر صحت نے کہا کہ ’کالجوں، یونیورسٹیوں، اسپتالوں اور سرکاری اداروں کی کینٹینوں میں محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک کو فروغ دینے والی ’ایٹ رائٹ کیمپس‘ پہل کے تحت 456 اداروں کو سرٹیفکیٹ دیا جا چکا ہے‘

اب کیرلم میں بچوں کے ’جنک فوڈ‘ کھانے کی عادت پر لگام لگائی جائے گی۔ ریاست کے وزیر صحت کے مرلی دھرن نے کہا ہے کہ حکومت چکنائی (فیٹ)، چینی اور نمک کی زیادہ مقدار والی غذائی مصنوعات کی شناخت اور ان پر قابو پانے کے ضوابط کے بارے میں سنٹرل فوڈ اتھارٹی سے وضاحت طلب کرے گی۔ وزیر نے پیر کی شام جاری ایک بیان میں کہا کہ ریاست فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کو خط لکھ کر مجوزہ ضوابط کو جلد حتمی شکل دینے کا مطالبہ کرے گی۔ ان ضوابط سے جنک فوڈ مصنوعات کی شناخت کرنے اور اسکولوں کے احاطے میں ان کی فروخت کو محدود کرنے یا اس پر پابندی لگانے میں مدد ملے گی۔
مرلی دھرن نے کہا کہ جنک فوڈ کی کوئی واضح سائنسی تعریف نہ ہونے کی وجہ سے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کن غذائی مصنوعات کو اس زمرے میں رکھا جائے اور ان کی فروخت کو کیسے کنٹرول کیا جائے۔ چکنائی، چینی اور نمک کی زیادہ مقدار والی غذائی اشیا کو ’ایچ ایف ایس ایس‘ (ہائی فیٹ، سالٹ اینڈ شوگر) مصنوعات قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن ان اجزاء کی کتنی مقدار کو ضرورت سے زیادہ سمجھا جائے، اس کے لیے واضح معیار ضروری ہیں۔
ریاستی وزیر کے مطابق ایسے معیار نہ ہونے کی وجہ سے مصنوعات کی فہرست تیار کرنے اور اسکولوں کے آس پاس ان کی فروخت کو کنٹرول کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی نے 7 اگست کو ضوابط کا مسودہ جاری کیا تھا۔ اس میں ٹھوس اور مائع غذائی اشیاء میں چکنائی، چینی اور نمک کی زیادہ مقدار کی شناخت کے لیے الگ الگ حدیں تجویز کی گئی ہیں۔ مجوزہ ضوابط کے مطابق ٹھوس غذائی اشیاء میں فی 100 گرام پر 4.2 گرام سے زیادہ چکنائی، 3 گرام سے زیادہ چینی اور 0.625 گرام سے زیادہ نمک ہونے پر متعلقہ حد سے تجاوز تصور کیا جائے گا۔
مائع غذائی اشیاء کے لیے فی 100 ملی لیٹر 1.5 گرام سے زیادہ چکنائی، 2 گرام سے زیادہ چینی اور 0.175 گرام سے زیادہ نمک کی حد تجویز کی گئی ہے۔ ریاستی حکومت نے کہا کہ ان ضوابط کو حتمی شکل دے کر قانونی ڈھانچے میں شامل کرنا ضروری ہے۔ اس سے ایسی مصنوعات کی شناخت کرنے اور اسکولوں کے احاطے میں ان کی فروخت روکنے کے لیے واضح بنیاد فراہم ہوگی۔
ریگولیٹری اقدامات کے ساتھ کیرلم بچوں کو محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنے اور صحت مند غذائی عادات کو فروغ دینے کے لیے پروگرام بھی چلا رہا ہے۔ ’ایٹ رائٹ اسکول‘ پہل اب تک مثالی رہائشی اسکولوں سمیت 169 اسکولوں میں نافذ کی جا چکی ہے۔ اس کا مقصد اسکولوں اور ہاسٹل کی کینٹینوں میں غذائی تحفظ، صفائی ستھرائی اور متوازن و غذائیت سے بھرپور کھانے کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔
ریاستی وزیر مرلی دھر نے بتایا کہ بچوں کو غذائیت کے بارے میں عملی معلومات فراہم کرنے والا ’اسکول میں محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک‘ (ایس این ایف ایٹ اسکول) پروگرام 2500 اسکولوں میں نافذ کیا گیا ہے۔ کالجوں، یونیورسٹیوں، اسپتالوں اور سرکاری اداروں کی کینٹینوں میں محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک کو فروغ دینے والی ’ایٹ رائٹ کیمپس‘ پہل کے تحت 456 اداروں کو سرٹیفکیٹ دیا جا چکا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
