
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو/ تصویر یو این آئی
اسرائیل میں انتخاب کے بعد جاری ایگزٹ پول نے 2 باتیں واضح کر دی ہیں۔ پہلی، اسرائیلی نیسیٹ (پارلیمنٹ) میں اس بار بھی کسی اتحاد کو مکمل اکثریت نہیں مل رہی ہے۔ دوسری، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت کے باوجود وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اکیلے اپن دَم پر حکومت نہیں بنا پا رہے ہیں۔ اگر ایگزٹ پول کے اعداد و شمار نتائج میں تبدیل ہوتے ہیں تو بنجامن نیتن یاہو کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ کیونکہ ایسی صورت میں ان 2 مسلم رہنماؤں کے ہاتھ میں اقتدار کی چابی ہوگی، جنہیں تل ابیب کی سیاست میں بنجامن نیتن یاہو کا سخت ترین مخالف مانا جاتا ہے۔
’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو 55 سیٹوں پر جیت مل سکتی ہے۔ دوسری جانب ان کے سخت ترین مخالف آئزن کوٹ کے اتحاد کو 49 سیٹوں پر کامیابی مل سکتی ہے۔ عرب حمایت یافتہ 2 پارٹیوں کو 16 سیٹوں پر برتری حاصل ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی نیسیٹ (پارلیمنٹ) میں مجموعی طور پر 120 سیٹیں ہیں۔ یہاں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 اراکین کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔
ایگزٹ پول کے مطابق جوائنٹ لسٹ کے رہنما یوسف جبرین کے اتحاد کو 12 سیٹوں پر جیت ملتی نظر آ رہی ہے۔ جبرین 2016 میں پہلی بار نیسیٹ کے رکن بنے تھے۔ 2021 تک اسی عہدہ پر رہے تھے۔ اس بار انہوں نے تمام عرب پارٹیوں کو متحد کر ایک اتحاد تیار کیا تھا۔ اسرائیل کی سیاست میں جبرین کو نیتن یاہو کا سخت مخالف مانا جاتا ہے۔ اگر ایگزٹ پول کے مطابق نتائج آتے ہیں تو جبرین پر بہت کچھ منحصر ہوگا۔ دوسری جانب آر اے ایم اتحاد کے رہنما منصور عباس کی پارٹی کو ایگزٹ پول میں 4 سیٹیں ملتی نظر آ رہی ہیں۔ عباس کی حمایت کا براہ راست اثر تو نہیں پڑے گا، لیکن اگر وہ یوسف کے ساتھ مل کر کسی اتحاد کا حصہ بنتے ہیں تو اس کا اثر ہو سکتا ہے۔
’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق وائٹ ہاؤس نیتن یاہو اور آئزن کوٹ کے درمیان اتحاد کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس چاہتا ہے کہ دونوں رہنما مل کر کام کریں، تاکہ ایران کے ساتھ حالیہ تنازعہ میں اسرائیل کا پلڑا بھاری رہے۔ دوسری جانب آئزن کوٹ اتحاد بنا کر حکومت کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ایگزٹ پول کے نتائج آنے کے بعد ٹرمپ نے جیت کا سہرا اپنے سر باندھا ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’میں وہاں جیت رہا ہوں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔