دیگر ممالک

’خلیجِ فارس کو حملہ آوروں کے خون سے رنگ دیں گے‘، ایران نے امریکہ-اسرائیل کو دی سخت وارننگ

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ’ایکس‘ پر امریکی صدر کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’امریکی فوجیوں کا خون ڈونالڈ ٹرمپ کی ذاتی ذمہ داری ہوگی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ایران-اسرائیل جنگ، تصویر اے آئی</p></div>

ایران-اسرائیل جنگ، تصویر اے آئی

 

ایران نے جمعرات کو وارننگ دی ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے خلیج میں ایران کے کسی بھی جزیرے پر حملہ کیا تو وہ اپنا صبر کھو دے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے دشمنوں کو دھمکاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسی حماقت کی گئی تو ایران خلیجِ فارس کو حملہ آوروں کے خون سے لال کر دے گا۔ قالیباف ایران کی انتہائی طاقتور شخصیت مانے جاتے ہیں اور ان کی یہ دھمکی جنگ زدہ مشرق وسطیٰ میں حالات کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔

Published: undefined

ایرانی لیڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’وطن یا موت! ایران کے جزائر کی زمین پر کسی بھی طرح کا حملہ ہوا تو ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا۔ ہم اپنا صبر چھوڑ دیں گے اور خلیجِ فارس کو حملہ آوروں کے خون سے رنگ دیں گے۔‘‘ انہوں نے اپنی پوسٹ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے مزید کہا کہ ’’امریکی فوجیوں کا خون ڈونالڈ ٹرمپ کی ذاتی ذمہ داری ہوگی۔‘‘ حالانکہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو پایا کہ وہ کن جزائر کا ذکر کر رہے ہیں۔ لیکن حال ہی میں ’ایکسیوس‘ کی ایک رپورٹ میں امریکی افسران کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگ کے درمیان امریکہ ’جزیرہ خارگ‘ پر قبضہ کرنے کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔

Published: undefined

خلیجِ فارس میں واقع ’جزیرہ خارگ‘ اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم ہے، جہاں سے ایران اپنے تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات کرتا ہے۔ ٹرمپ تقریباً 40 سال قبل 1988 میں اس جزیرہ پر قبضہ کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے اس وقت برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں ایران کے ساتھ سختی سے پیش آتا۔ وہ ہمیں نفسیاتی طور پر پریشان کرتے ہیں اور ہمیں بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہمارے کسی آدمی یا جہاز پر ایک بھی گولی چلتی تو میں جزیرہ خارگ پر بڑا حملہ کر دیتا۔ میں وہاں جاتا اور خلیج کو اپنے قبضے میں لے لیتا۔‘‘

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ ڈوانالڈ ٹرمپ نے مذکورہ بیان تب دیا تھا جب ایران-عراق جنگ چل رہا تھا۔ ایران، عراق کے صدام حسین کے اقتدار کے خلاف لڑ رہا تھا جس میں تقریباً 5 لاکھ لوگ مارے گئے تھے۔ جنگ کے دوران امریکی بحریہ خلیجِ فارس میں جہازوں کی حفاظت کر رہی تھی۔ اس دوران بھی امریکہ نے ایران کے تیل ٹھکانوں اور سمندری سرنگوں پر حملے کیے تھے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined