ایم جی آر، جے للیتا کے بعد اب جوزف وجے... تمل ناڈو کے سیاسی اُفق پر چمکنے والے سپر اسٹار
اقتدار تک پہنچنے کے لیے صرف مقبولیت کافی نہیں ہے۔ مضبوط تنظیم، کیڈر پر مبنی ڈھانچہ، واضح نظریاتی سمت اور زمینی سطح پر مسلسل سرگرمی وہ عناصر ہیں جن کے بغیر اسٹارڈم سیاسی کامیابی میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔
تمل ناڈو کی راجدھانی چنئی کے نہرو اسٹیڈیم میں تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) چیف سی جوزف وجے نے( 10 مئی) کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے اتحاد سے باہر کے پہلے ایسے لیڈر بن گئے ہیں جو 1967 کے بعد تمل ناڈو حکومت کی قیادت کریں گے۔ تمل ناڈو میں اداکاروں کے سیاست میں آنے اور کامیابی حاصل کرنے کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔
تمل ناڈو میں فلمی ستاروں کے براہ راست اقتدار تک پہنچنے کی سب سے نمایاں مثال ایم جی رامچندرن ہیں، جنہیں لوگ ’ایم جی آر‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ انہوں نے اپنی فلموں میں خود کو غریبوں کا مسیحا، انصاف پسند اور بدعنوانی سے لڑنے والے ہیرو کے طور پر قائم کیا۔ جب یہ تصویر سیاست میں منتقل ہوئی تو زبردست عوامی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ایم جی آر نے ثابت کیا کہ اگر سنیما کی تصویر عوام کی امنگوں سے ملتی ہے تو یہ براہ راست ووٹوں میں بدل سکتی ہے۔
ایم جی آر کی موت کے بعد ان کی وراثت کو جے للیتا نے نہ صرف سنبھالا بلکہ اسے نئی سیاسی جہتیں بھی دیں۔ فلمی دنیا سے سیاست دان بننے والی جے للیتا کو شروع میں پارٹی کے اندر سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے اے آئی اے ڈی ایم کے پر مکمل کنٹرول کر لیا۔ انہوں نے ’اما کینٹین‘، سستی ادویات، سبسڈی والی مصنوعات اور خواتین پر مرکوز اسکیمیں متعارف کروائیں۔
تامل سنیما کے دو سب سے بڑے نام رجنی کانت اور کمل ہاسن، طویل عرصے تک ایسے ستارے رہے جن کی مقبولیت نے بار بار سیاسی امکانات کو جنم دیا۔ رجنی کانت کی فلموں میں نظام کے خلاف لڑنے والے کرشماتی ہیرو کی تصویر نے انہیں عوام میں رہنما کے طور پر قائم کیا۔ 1996 میں ان کا ایک بیان بھی انتخابی نتائج کو متاثر کرنے والا مانا گیا۔ اس کے باوجود متعدد اعلانات کے بید بھی انہوں نے سرگرم سیاست میں شمولیت اختیار نہیں کی اور صحت کی وجوہات کا حوالہ دے کر سیاست سے دوری بنائے رکھی۔
وہیں کمل ہاسن کا راستہ مختلف رہا ہے۔ اپنی فلموں میں سماجی و سیاسی مسائل کو بیباکی سے اٹھانے والے کمل ہاسن نے 2018 میں ’مکل نیدھی میئم‘ کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے انسداد بدعنوانی، شفافیت اور شہری نظم و نسق جیسے مسائل پر توجہ دی۔ 2019 کے لوک سبھا اور 2021 کے اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی نے موجودگی ضرور درج کرائی لیکن عوامی حمایت نہیں مل پائی۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ تمل ناڈو میں سینما اب بھی سیاسی شناخت قائم کر سکتا ہے، لیکن اقتدار تک پہنچنے کے لیے صرف مقبولیت ہی کافی نہیں ہے۔ مضبوط تنظیم، کیڈر پر مبنی ڈھانچہ، واضح نظریاتی سمت اور زمینی سطح پر لگاتار سرگرمی، یہ وہ عناصر ہیں جن کے بغیر اسٹارڈم سیاسی کامیابی میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
