
امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس
روس اور یوکرین کے درمیان گزشتہ 4 سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں 9 مئی سے 11 مئی تک 3 دنوں کی جنگ بندی رہے گی۔ اس وقفے میں ہر طرح کی فوجی سرگرمیوں پر پابندی شامل ہوگی اور ساتھ ہی دونوں ممالک کے 1000-1000 قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا جائے گا۔
Published: undefined
ڈونالڈ ٹرمپ اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’امید ہے کہ یہ ایک بہت طویل، مہلک اور سخت جدوجہد والی جنگ کے خاتمے کا آغاز ہوگا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے جاری بات چیت میں مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان 3 دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ مکمل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔
Published: undefined
دراصل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی یعنی آج سے 11 مئی تک روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی رہے گی۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی نہیں ہوگی اور ہتھیاروں سے حملے بھی روک دیے جائیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جنگ بندی روس کے ’وکٹری ڈے‘ کی تقریبات کے دوران نافذ رہے گی۔ واضح رہے کہ روس ہر سال 9 مئی کو دوسری جنگ عظیم میں فتح کی یاد میں ’وکٹری ڈے‘ مناتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ یوکرین نے بھی دوسری جنگ عظیم میں بڑا کردار ادا کیا تھا، اس لیے یہ وقت دونوں ممالک کے لیے کافی اہم ہے۔
Published: undefined
ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق 3 روزہ جنگ بندی کے دوران روس اور یوکرین کے درمیان 1-1 ہزار جنگی قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا جائے گا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ پہل انہوں نے براہ راست کی تھی اور روسی صدر پوتن اور یوکرینی صدر زیلنسکی نے اس پر اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ قدم 4 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی سمت میں ایک بڑا سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ جنگ ختم کرنے کے حوالے سے بات چیت مسلسل جاری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان فروری 2022 سے جنگ جاری ہے۔ اس تنازعہ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ایسے حالات میں 3 روزہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلوں کو بین الاقوامی سطح پر ایک اہم واقعہ مانا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا