امریکہ سے الگ ہٹ کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی تیاری میں یورپی ممالک، ’یورپی ناٹو‘ بنانے کی چل رہی تیاری

ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے کئی ایسے قدم اٹھائے ہیں، جن کی وجہ سے امریکہ اور ناٹو ممالک میں دوری آئی ہے۔ یوکرین جنگ میں بھی ٹرمپ کیف کو مکمل طور سے امریکی مدد دینے کے خلاف رہے ہیں۔

ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

دنیا کے کئی حصوں میں اس وقت کشیدگی جاری ہے۔ مشرق وسطیٰ اور روس-یوکرین جنگ نے دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو اپنی خارجہ اور سیکورٹی پالیسی پر دوبارہ غور کرنے کے لیے مجبور کر دیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ناٹو کے متعلق بدلے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے رخ کے بعد یورپ ایک ایمرجنسی منصوبہ بنا رہا ہے۔ اگر مستقبل میں امریکہ ناٹو سے اپنا رول کم کرتا ہے تو ناٹو کے لیے نئے ملٹری اسٹرکچر کا استعمال کر کے براعظم کی حفاظت کی جا سکے۔

ناٹو (نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن) یورپی اور شمالی امریکہ کے 2 ممالک کا ایک گروپ ہے، جس میں 30 یورپی اور 2 شمالی امریکی ملک (کناڈا اور امریکہ) شامل ہے۔ ناٹو کا آرٹیکل 5 ناٹو معاہدہ (نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی) کا سب سے اہم حصہ ہے۔ اسے اجتماعی دفاع کی بنیاد کہا جاتا ہے، یعنی ایک ملک پر حملہ پورے ناٹو ممالک پر حملہ مانا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے یورپی ممالک بھی امریکہ جیسی فوجی طاقت کی ڈھال میں خود کو محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔


واضح رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے کئی ایسے قدم اٹھائے ہیں، جن کی وجہ سے امریکہ اور ناٹو ممالک میں دوری آئی ہے۔ یوکرین جنگ میں بھی ڈونالڈ ٹرمپ کیف کو مکمل طور سے امریکی مدد دینے کے خلاف رہے ہیں۔ اب ایران سے جنگ کے بعد یہ فاصلہ مزید بڑھ گیا ہے اور ٹرمپ امریکہ کو ناٹو سے باہر نکالنے پر غور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب یورپی ممالک مستقبل میں امریکہ کے بغیر کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کا منصوبہ بنانے میں مصروف ہیں۔ ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق افسران ان تجاویز پر کام کر رہے ہیں جنہیں کچھ لوگ ’یورپی ناٹو‘ کہہ رہے ہیں۔ اس میں اتحاد کے ’کمانڈ اینڈ کنٹرول‘ کے رول میں زیادہ یورپی لوگوں کو رکھنے اور امریکی فوجی اثاثوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا ہے جب امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک اپنے تحفظ کے لیے متحد ہو رہے ہیں۔ کچھ ماہ قبل سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بھی اسلامی ناٹو جیسی ایک تنظیم بنانے کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق نئی تنظیم کی تشکیل سے متعلق ناٹو حلقے میں غیر رسمی بات چیت جاری ہے۔ اس میں حصہ لینے والوں کا کہنا ہے کہ یہ کوشش اتحاد کو بدلنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد روس کے خلاف روک تھام برقرار رکھنا، آپریشنل تسلسل برقرار رکھنا اور اگر واشنگٹن اپنی فوج یا تعاون واپس لے لیتا ہے تو جوہری اعتبار بنائے رکھنا ہے۔ اس منصوبہ کو جرمنی کی کھلی حمایت ملی ہے، جو طویل عرصے سے یورپ کے دفاعی ماڈل پر شک کرتا رہا ہے۔ یہ قدم امریکی انحصار کے بارے میں چانسلر فریڈرک مرز کے بڑھتے ہوئے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ کوشش ناٹو پر ٹرمپ کی باتوں کو لے کر بڑھتی ہوئی بے چینی کے درمیان ہوئی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے یورپی اتحادیوں کو ہدف تنقید بنایا ہے، انہیں ڈرپوک کہا ہے اور اتحاد کو کاغذی شیر بتایا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر اتحادیوں نے ایران سمیت امریکی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتے تو وہ اپنی حمایت واپس لے لیں گے۔


کچھ یورپی لیڈران کا کہنا ہے کہ کوئی بھی تبدیلی آہستہ آہستہ ہونی چاہیے۔ فِن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب  نے کہا کہ امریکہ سے یورپ کی جانب بوجھ منتقل ہو رہا ہے اور یہ جاری رہے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کو اچانک باہر نکلنے کے بجائے منظم اور قابل کنٹرول انداز میں ایسا کرنا چاہیے۔ اسٹب نے یہ بھی کہا کہ ’’ہمارے امریکی دوستوں کے لیے بنیادی پیغام یہ ہے کہ اتنے دہائیوں کے بعد یورپ کے لیے اپنی سیکورٹی اور دفاع سے زیادہ ذمہ داری لینے کا وقت آ گیا ہے۔‘‘ جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریس نے کہا کہ ناٹو یورپ اور امریکہ دونوں کے لیے ضروری ہے۔ ساتھہ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہم یورپی لوگوں کو اپنے دفاع کی زیادہ ذمہ داری لینی چاہیے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ اسلامی ناٹو کے تعلق سے بنیادی طور پر میڈیا، ماہرین اور کچھ سیاست دانوں کے درمیان بات چیت چل رہی ہے، لیکن یہ ابھی تک کوئی باضابطہ یا مکمل طور پر قائم شدہ اتحاد نہیں ہے۔ اسے اکثر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کا نام دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ستمبر 2025 میں سعودی عرب اور پاکستان نے نان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ (ایس ایم ڈی اے) پر دستخط کیا۔ دونوں ممالک نے اس پیکٹ میں ایک ایسا کلاز رکھا ہے جو ناٹو کے آرٹیکل 5 جیسا ہے۔ یعنی ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدہ کے بعد ترکیہ نے بھی سعودی عرب اور پاکستانی افسران کے ساتھ کئی میٹنگیں کی لیکن وہ اب تک اس معاہدہ میں شامل نہیں ہوا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔