دیگر ممالک

امریکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​میں کود پڑا! ایران کے فورڈو، نتانز اور اصفہان کے جوہری مقامات پر حملے

امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ میں داخل ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی فضائیہ نے فورڈو ، نتانز اور اصفہان کے جوہری مقامات پر حملہ کئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ میں داخل ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی فضائیہ نے فورڈو ، نتانز اور اصفہان کے جوہری مقامات پر حملہ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے تین بڑے ایٹمی اڈوں فورڈو ، نتانز اور اصفہان پر ایک بڑا اور کامیاب فضائی حملہ کیا ہے۔ امریکی فوج نے پوری تیاری کے ساتھ ان اڈوں پر بم گرائے جن کا اصل ہدف فورڈو تھا۔

Published: undefined

ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ تمام لڑاکا طیارے اب بحفاظت ایرانی فضائی حدود سے نکل چکے ہیں اور اپنے اڈوں پر واپس جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کسی اور فوج میں ایسی صلاحیت نہیں ہے۔ انہوں نے اسے امریکہ کی فوجی طاقت کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور اب امن کی اپیل کی ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل کو ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش ہے۔

Published: undefined

بتایا جا رہا ہے کہ امریکی فضائیہ نے بی ٹو بمبار طیاروں سے تین ایٹمی پلانٹس پر بمباری کی ہے۔ اس فضائی حملے کے بعد امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں واقع اپنے تمام ائیر بیسز پر ہائی ایلرٹ جاری کر دیا ہے۔ اب مقامی وقت کے مطابق ٹرمپ رات 10 بجے ملک سے خطاب کریں گے۔ ہندوستانی وقت کے مطابق ان کا خطاب صبح 7.30 بجے ہوگا۔

Published: undefined

ٹرمپ نے ایران کے خلاف اسرائیل کی فوجی مہم کے بارے میں فیصلہ کرنے میں دو ہفتے کا وقت لیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ دو ہفتوں میں اس پر فیصلہ کر لیں گے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔

Published: undefined

اسی سلسلے میں امریکہ نے اپنے جدید ترین لڑاکا طیارے B2 بمبار طیارے بحر الکاہل میں واقع اپنے گوام ایئربیس پر بھیجے تھے۔ ایسے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ امریکی طیاروں نے تزویراتی نقل و حرکت کی ہے لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ انہی طیاروں نے ایران پر حملہ کیا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس نئی بمباری میں کوئی اسرائیلی فوج ملوث تھی یا نہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined