
کیر اسٹارمر / آئی اے این ایس
برطانیہ میں اینڈی برنہم نے خصوصی انتخاب میں کامیابی حاصل کر سیاسی ہلچل میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس جیت کے بعد وہ وزیر اعظم اسٹارمر کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ جمعہ کو اعلان کیے گئے نتائج کے بعد برنہم لیبر پارٹی کے لیڈر کے علاوہ ملک میں وزارت عظمیٰ کے ایک اہم دعوے دار کے طور پر ابھرے ہیں۔ برنہم نے شمال مغربی انگلینڈ کی میکر فیلڈ سیٹ پر ’ریفارم یو کے‘ کے راب کینیون کو شکست دی۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ اگر عوام ان پر اعتماد کریں گے تو وہ سیاست کو بدل کر رکھ دیں گے۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ، ہاؤس آف کامنز کے 650 اراکین میں سے ایک برنہم کا یہ دعویٰ خاصا اہم سمجھا جا رہا ہے۔
Published: undefined
برنہم نے انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد کہا کہ وہ تبدیلی کی اس جدوجہد کو جہاں تک لے جا سکتے ہیں، لے جائیں گے۔ جولائی 2024 میں شاندار انتخابی فتح کے بعد سے اسٹارمر کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ وہ اقتصادی ترقی، عوامی خدمات کی بہتری اور زندگی گزارنے کی بڑھتی لاگت کو کم کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ بار بار کی پالیسی پر مبنی غلطیوں سے بھی دوچار ہیں۔ ان غلطیوں میں پیٹر مینڈلسن کو امریکہ میں سفیر مقرر کرنے کا ان کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ مینڈلسن جیفری ایپسٹین کے ایک متنازعہ دوست رہے ہیں۔ یہ بھی غور کرنے والی بات ہے کہ مئی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں خراب کارکردگی کے بعد لیبر پارٹی کے کئی اراکین پارلیمنٹ نے اسٹارمر کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسٹارمر نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا، لیکن ان کے سینئر ساتھی تبدیلی لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
Published: undefined
واضح رہے کہ مئی میں ویس اسٹریٹنگ نے وزارت صحت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جہاں ہمیں دور اندیشی کی ضرورت ہے، وہاں ایک خلا موجود ہے۔ میکر فیلڈ کے لیبر رکن پارلیمنٹ جوش سائمن نے برنہم کو پارلیمنٹ میں واپسی کا موقع دینے کے لیے استعفیٰ دیا۔ برطانیہ کا پارلیمانی نظام حکمران پارٹیوں کو مدت حکومت کے دوران اپنا لیڈر تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس عمل میں کامیاب امیدوار کو نئے قومی انتخابات کے بغیر ہی وزیر اعظم بنا دیا جاتا ہے۔ لیبر پارٹی کے قواعد کے تحت کوئی بھی رکن پارلیمنٹ ہاؤس آف کامنز میں پارٹی کے پانچویں حصے یعنی 81 اراکین کی حمایت حاصل کر کے پارٹی لیڈر کو چیلنج کر سکتا ہے۔
Published: undefined
اسٹریٹنگ نے گزشتہ منگل کے روز کہا کہ انہیں امید ہے اسٹارمر عہدہ چھوڑنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر ایک باقاعدہ مقابلہ ضروری ہوگا اور وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ اسٹریٹنگ ایک مؤثر مقرر ہیں اور پارلیمانی ساتھیوں کے درمیان ان کی حمایت بھی موجود ہے۔ تاہم برنہم کو اسٹارمر کا زیادہ مضبوط اور ممکنہ جانشین تصور کیا جا رہا ہے۔ 56 سالہ سیاست دان کو ’کنگ آف دی نارتھ‘ کا لقب دیا گیا ہے۔ وہ 2017 سے مانچسٹر کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے شہر کی تیز رفتار ترقی کی نگرانی کی ہے۔ مانچسٹر وہ شہر ہے جہاں صنعتی انقلاب نے جنم لیا تھا۔ برنہم قومی سطح پر اپنے ’مانچسٹر ازم‘ کے ماڈل کو دہرانے کا وعدہ کر رہے ہیں۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined