ہماچل میں شدید بارش کے بعد لینڈسلائیڈ سے اسکول اور باغ تباہ، کارگل میں اچانک سیلاب سے کھیتی اور فصلوں کو پہنچا نقصان
ڈی ڈی ایم اے نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بہتے ہوئے پانی کے راستوں سے دور رہیں، طغیانی پر آئی ہوئی ندیوں کو پار کرنے سے گریز کریں اور موسم کے حالات معمول پر ہونے تک کوئی بھی غیر ضروری سفر نہ کریں۔

ہماچل پردیش کے کلو ضلع کے پانکوا گاؤں میں مسلسل ہو رہی شدید بارش نے شدید تباہی مچائی ہے۔ مسلسل بارش کی وجہ سے ہوئے لینڈسلائیڈنگ سے گورنمنٹ پرائمری سکول کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ باغبانوں، گاؤں والوں اور مقامی خاندانوں کو بڑے پیمانے پر نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس واقعہ کے بعد پورے علاقے میں تشویش کا ماحول ہے اور لوگ انتظامیہ سے جلد راحت اور راحت اور بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اسکول کو نقصان پہنچنے سے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ شدید بارش اور لینڈسلائیڈنگ سے علاقہ کے باغبانوں کو بھی شدید معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ملبے کی وجہ سے 500 سے زائد سیب کے پودے برباد ہو گئے ہیں، لاکھوں روپے کے نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی گؤشالہ بھی تباہ ہوئے ہیں۔ واقعہ کے بعد گاؤں والوں نے انتظامیہ سے متاثرہ علاقے کا فوری طور پر سروے کرانے، نقصان کا صحیح تخمینہ لگانے، متاثرین کو مناسب معاوضہ دینے، تباہ شدہ اسکول کی عمارت کو جلد دوبارہ تعمیر کرانے، بچوں کی تعلیم کے لیے متبادل انتظام یقینی بنانے اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب لداخ کے کارگل ضلع کے ہرداس گونڈ اور کرکیچو گاؤں میں شدید بارش کی وجہ سے اچانک سیلاب آ گیا، جس سے کھیتی کی زمین اور سڑکوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ جو گاؤں سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ان میں ہرداس گونڈ، سمراہا نالا (شاکر-چکٹن)، بڈگام، کرکیچو، چوسکورے، سلمو اور یوکما کھاربو شامل ہیں۔ پانی کے ساتھ آئے بھاری مقدار میں کیچڑ و ملبے نے کھیتی والی زمین کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ اچانک آئے اس سیلاب سے ذاتی املاک، مقامی سڑکوں اور گاڑیوں کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ مقامی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ محکمہ بند نالوں سے ملبہ ہٹانے اور سڑکوں کو پھر سے چالو کرنے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال کر رہے ہیں۔
کارگل ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی ایم اے) نے ایک ضروری عوامی ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں تمام شہریوں اور سیاحوں کو انتہائی محتاط رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔ لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بہتے ہوئے پانی کے راستوں سے دور رہیں، طغیانی پر آئی ہوئی ندیوں کو پار کرنے سے گریز کریں اور موسم کے حالات معمول پر ہونے تک کوئی بھی غیر ضروری سفر نہ کریں۔ آئی ایم ڈی نے کہا ہے کہ آج بھی جموں و کشمیر اور لداخ کے کئی علاقوں میں شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے ضروری ہونے پر ہی گھر سے نکلیں، ندی-نالوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے دور رہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
