سبھی پر برپا ہوگا ’ڈی لسٹ‘ کا قہر... میناکشی نٹراجن
ہر گروہ کو چاہیے کہ وہ اس صورت حال کو پہچانے۔ ’ڈی لسٹ‘ کا قہر سب پر ٹوٹے گا۔ کوئی باقی نہیں رہے گا۔ یہ ’ڈی لسٹ‘ کرنے کی کوشش نہیں ہے، بلکہ ’ڈی روٹ‘ کرنے کی سازش ہے۔

ڈی لسٹنگ کا مسئلہ زور و شور سے اٹھایا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ریاست کی سرپرستی میں چلنے والا رجعت پسند ایجنڈا ہے۔ آخر ڈی لسٹنگ کا پس منظر کیا ہے؟ اس کا تناظر جاننا ضروری ہوگا۔ 1935 کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت درج فہرست ذات و قبائل کی اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ اگرچہ برطانوی حکومت ’ڈپریسڈ کلاسز‘ کی اصطلاح استعمال کرتی تھی۔ لیکن اسی فہرست کی بنیاد پر صوبائی انتخابات میں ریزرویشن کی شق رکھی گئی تھی۔ آزادی کے بعد بھی آئین نے اس فہرست کو برقرار رکھا۔ مختلف ذاتوں اور قبائل کو فہرست میں شامل کیا گیا، جنہیں تاریخی ناانصافی، چھوا چھوت اور امتیاز کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی فہرست سیاسی، تعلیمی اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کی بنیاد بنی۔
اسی فہرست کی آڑ لے کر قبائلی برادری کو تقسیم کرنے کی بھیانک کوشش جاری ہے۔ ایسا ہی دلت سماج کے ساتھ بھی ہونا طے ہے۔ شاید پسماندہ طبقے کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔ حکومت نے اپوزیشن کے دباؤ میں آ کر ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان تو کر دیا ہے، لیکن اسے اپنی فرقہ وارانہ سیاست کے لیے استعمال کرنے سے وہ باز نہیں آئیں گے۔ ریزرویشن کی کھلی مخالفت ان کی تنظیموں کی جانب سے کئی بار کی جا چکی ہے۔ خاص طور پر ایک صدی مکمل کر چکی ان کی نظریاتی مادر تنظیم کے سرسنگھ چالک نے اس کی وکالت کی ہے۔
حالیہ جین-زی کے کامیاب احتجاج کے بعد نوجوانوں کو بہکانے، تقسیم کرنے کے لیے بھی ریزرویشن مخالف چنگاری چھوڑ دی گئی ہے۔ ایسے حالات میں ڈی لسٹنگ کو سمجھنا بے حد ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ڈی لسٹنگ کا مطلب بعض گروہوں کو فہرست سے باہر کیا جانا ہے۔ خاص طور پر قبائلی برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ بحث پھیلائی جا رہی ہے کہ یہ ڈی لسٹنگ مذہبی بنیاد پر کیوں نہ کی جائے؟ یعنی جو قبائلی ایک بار عیسائی مذہب قبول کر لیں، انہیں ڈی لسٹ کرنے کی تجویز پیش کی جا رہی ہے۔ دلیل یہ ہے کہ چونکہ وہ اب کسی منظم مذہبی عقیدے کے تابع ہو گئے ہیں، تو اب انہیں قبائلی کیوں کر مانا جائے۔ صاف طور پر یہ برادری کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔ برادری کے بااثر طبقے کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ عیسائی قبائلی تو دوہرا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ سو، انہیں کم از کم ایک فائدے سے تو محروم کرنا ہی چاہیے۔
آخر یہ دوہرا فائدہ کیا ہے؟ پوچھنے پر کسی کے پاس کوئی خاص معقول جواب نہیں۔ ’وَرن‘ پر مبنی نظام دلت کو ’اوَرن‘ اور قبائلی گروہ کو ’ونواسی‘ کہتا رہا ہے۔ منووادی سماجی نظام سے متاثر سیاسی پارٹیاں آج بھی ’ونواسی‘ کا لفظ استعمال کرتی ہیں۔ تو پھر ان کی نظر میں دوہرے فائدے کا مطلب کیا ہے؟ جس برادری کو وہ ’ونواسی‘ یا ’گریجن‘ کہہ کر حقیر سمجھتے تھے، ان کے عیسائی ہو جانے سے وہ ’وَرن‘ کے تابع شناخت سے آزاد ہو گئے! اب انہیں ’ورن‘ پر مبنی نظام کی چھتری سے خارج کیے جانے کے المیے سے نجات ملے گی، تو کیا اسے فائدہ شمار کیا جا رہا ہے؟
مذہب کی بنیاد پر کوئی ریزرویشن تو ملتا نہیں۔ پھر ہندوستان خواہ عالمی گرو بن گیا ہو، لیکن ذات کی بندشیں مرنے کے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ مذہب تبدیل کرنے پر بھی ذات کہاں چھوٹتی ہے؟ روٹی بیٹی کے تعلقات تو اب بھی ویسے ہی برقرار رہتے ہیں۔ یہ ضرور غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ عیسائی ہونے سے بیرونی ممالک فنڈنگ کرتے ہیں، جو اپنے آپ میں مضحکہ خیز ہے۔ یہ دراصل قبائلی کو اولین طور پر بسنے والے انسانی گروہ تسلیم نہ کرنے کی کوشش بھی ہے، تاکہ وہ محض ’ونواسی‘ کہلائیں جو کسی بھی منظم مذہب کو اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کی اپنی کوئی خاص وراثت نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ زبردستی کیے جانے والے مذہبی تبدیلی کو روکنے کا یہ سب سے اچھا طریقہ ہے۔ لیکن اس سے زیادہ تشویش تو اقتدار میں موجود لوگوں کو اپنی مرضی سے کیے جانے والے مذہبی تبدیلی سے ہو رہی ہے۔ کیا اس سے یہ رک جائے گا؟ انہیں سوچنا ہوگا کہ یہ کیسے رک سکتا ہے۔ کیا یہ قبائلیت کو تسلیم کرنے سے رک جائے گا؟
قبائلیت تو مذہب سے پہلے ہی زمین میں پنپ چکی تھی۔ کہا جا سکتا ہے کہ تمام روحانی فکر کی ماں قبائلیت ہے۔ وہ تمام منظم مذہبی عقائد کے پنپنے سے بہت پہلے قائم ہو چکی تھی۔ یہ قبائلیت محض فرقہ وارانہ شناخت نہیں ہے۔ وہ ایک طرز زندگی کا فلسفہ ہے، زبان ہے، سماجی نظام ہے۔ ان کے پاس زمین پر انسانی نسل کی ابتدا کے اپنے اساطیر ہیں، قصے کہانیاں، گیت، رقص اور ساز ہیں۔ وہ دنیا کا سب سے طویل عرصے تک قائم رہنے والا طرز زندگی ہے، جس کی عمر تقریباً ڈیڑھ لاکھ سال سے بھی زیادہ ہے۔ یعنی سیپینز کے پورے دورانیے جتنی۔ زراعت 10 ہزار سال پرانی ہے۔ صنعت کاری چند سو سال پرانی اور جدید ٹیکنالوجی صرف ایک صدی پہلے کی ہے۔
قبائلیت کی بھی صرف ایک کسوٹی کیسے ہو سکتی ہے، جبکہ مختلف لسانی گروہوں کی اپنی ایک تہذیبی شناخت ہوتی ہے۔ ان کے عقائد مختلف ہوتے ہیں۔ بدلتے دور میں سب کچھ تھوڑا تھوڑا بدلتا جاتا ہے۔ زبان، سماجی ڈھانچہ، طرز زندگی... سب بدلتی ہے۔ تو کیا اس وجہ سے کسی برادری کو ڈی لسٹ کیا جا سکتا ہے؟ پھر ہندوستان میں ایک اٹل حقیقت یہ ہے کہ کسی کو بھی ’وَرن‘ پر مبنی ذات پات کے نظام میں ذات تبدیل کرنے کا حق نہیں ہے۔ سماج کا نقطۂ نظر جامد ہے۔ وہ تو پیدائشی شناخت کو ہی تسلیم کرتا ہے۔ چاہے کسی گروہ یا فرد نے آبائی پیشہ چھوڑ ہی کیوں نہ دیا ہو؟ دلت-قبائلی اساتذہ، پروفیسر پنڈت آچاریہ نہیں کہلاتے۔ ان کا ’کوٹہ‘ کہہ کر مذاق اڑایا جاتا ہے۔ تو ایسے میں مذہب تبدیل کرنے پر بھی وہ سماجی غلبے کے باعث مساوی سماجی و اقتصادی حیثیت کہاں حاصل کرتے ہیں؟
پھر قبائلیت اپنے آپ میں ایک منظم طرز زندگی کا فلسفہ ہے۔ اگر اقتدار اسے تسلیم کرتا ہے، تو پھر جن ریاستوں میں ان کی پارٹی کی حکومت ہے، وہاں کسی سرکاری درخواست، فارم میں مذہب درج کرنے کے خانے میں اس کا اختیار کیوں نہیں ہے۔ قبائلی درخواست گزار اپنے آپ کو غیر اقلیتی ہونے کی صورت میں ہندو کہنے پر کیوں مجبور ہے۔ وہ خود کو قبائلی کیوں نہ کہے۔ کیا ہندو ہونے پر بھی وہ ’ڈی لسٹ‘ ہوگا؟ کیا وہ مذہب کی تبدیلی نہیں؟ زبردستی کی عکاسی نہیں؟ یا یہ پہلے سے چلی گئی چال ہے، تاکہ آہستہ آہستہ کسی کو بھی قبائلی نہ کہا جا سکے۔
ڈی لسٹ سے بہت پہلے سے ہی مسلسل نقل مکانی کا سامنا کرنے والی قبائلی برادری کو کیا ’ڈی روٹ‘ یعنی جڑ سے اکھاڑا نہیں جا رہا۔ اپنی زمین، پانی اور جنگل کے رشتے سے جدا محض 8 فیصد قبائلی 55 فیصد نقل مکانی کا سامنا کرتا ہے۔ اپنے ماحولِ حیات سے دور مزدوری اور بیگاری پر مجبور ہیں۔ اس کی اجتماعی زندگی باقی نہیں رہتی۔ تو زبان، تہذیب، فلسفہ سب چھوٹ جاتا ہے۔ وہ فہرست میں شاید رہتا ہے، لیکن جڑ سے محروم ہو کر رہ جاتا ہے۔ فہرست سے الگ اس کی وراثت کی ثروت گم ہو جاتی ہے۔ زبان معدوم ہوتی ہے، دیوی دیوتا تباہ ہو جاتے ہیں، کہانیاں گم ہو جاتی ہیں۔ پانی، جنگل اور زمین سے کٹ کر نہ تو ان کے ساتھ اپنا فطری بنیادی باہمی تعلقاتی حق برقرار رہتا ہے اور نہ ہی کوئی مزاحمت کرنے کے پلیٹ فارم باقی رہتے ہیں۔ گاؤں نہیں رہا تو گرام سبھا کا کیا مطلب رہ جائے گا۔
اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی چونکہ وہ اب بھی کسی حد تک زندہ ہے، اقتدار میں موجود لوگوں کو یہ راس نہیں آ رہا۔ دراصل اسی کی بستی میں تمام قدرتی وسائل موجود ہیں۔ عیسائیت کے نام پر ’ڈی لسٹ‘ کرتے ہی قبائلی آبادی کم درج کی جائے گی۔ حد بندی، نشستیں بڑھانے کی کوشش میں قبائلی نمائندگی مزید کم کی جائے گی۔ پھر بات یہاں نہیں رکے گی۔ درج فہرست علاقوں، جنگلاتی حقوق اور ’پیسہ‘ کے حقوق نہیں دینے پڑیں گے۔ یہ ایک گہری سازش ہے۔
فی الحال اس کی بازگشت پانچویں شیڈول والے علاقوں کی ریاستوں میں ہے، جہاں فرقہ وارانہ سیاست عروج پر ہے۔ وہیں قبائلی اور ونواسی کی بحث بھی جاری ہے۔ شمال مشرق میں آسام، منی پور، تریپورہ، سکم کو چھوڑ کر تقریباً تمام ریاستیں عیسائی اکثریتی ہیں۔ وہ سب قبائلی بھی ہیں۔ وہاں یہ مسئلہ چھیڑنا اقتدار کے لیے مشکل پیدا کر سکتا ہے۔ سو وہاں نوآبادیاتی نظام قائم کرنے کے دوسرے طریقے جاری ہیں۔ منی پور میں بے لگام قبائلی نسل کشی کرائی جا رہی ہے۔ ریاست کی حکومت مرکز پر منحصر ہوتی ہے۔ اس کا فائدہ اٹھا کر نوآبادیاتی نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ تھوڑے دنوں میں ماحولیاتی تبدیلی سامنے آئے گی۔ آج جو سڑکیں، ریل بچھائی جا رہی ہیں، وہ نوآبادیاتی نظام قائم کرنے کے لیے زیادہ ہیں، مقامی لوگوں کی آمد و رفت بڑھانے کی غرض کم ہے۔ کوئی تعجب نہیں کہ ملک کے دوسرے حصوں سے لوگوں کو قصداً بسایا جائے۔ ایک ملک کے نام پر تمام خصوصیات ختم کی جائیں۔ 370 ہٹا تو 371 کے تحت درج حقوق کب تک برقرار رہیں گے۔
ہر گروہ کو چاہیے کہ وہ اس صورت حال کو پہچانے۔ ’ڈی لسٹ‘ کا قہر سب پر ٹوٹے گا۔ کوئی باقی نہیں رہے گا۔ یہ ’ڈی لسٹ‘ کرنے کی کوشش نہیں ہے، بلکہ ’ڈی روٹ‘ کرنے کی سازش ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
