دیگر ممالک

سعودی عرب کو تحفظ فراہم کرنے جائے گی ترکیہ اور پاکستان کی فوج، حوثیوں کے خلاف ’مکہ پیکٹ‘ فعال!

سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے کہا کہ اتحاد کی اسٹریٹجک سیاسی اور دفاعی کمیٹی نے حالیہ حوثی حملوں کے جواب میں اجتماعی ڈیٹرنس اقدامات کو فعال کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>’مکہ دفاعی اتحاد‘ تصویر، ایکس&nbsp;<a href="https://x.com/kbsalsaud">@kbsalsaud</a></p></div>

’مکہ دفاعی اتحاد‘ تصویر، ایکس @kbsalsaud

 

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے حوثی حملوں کے دمیان ’مکہ دفاعی اتحاد‘ کو فعال کر دیا ہے۔ اتحادی ممالک کی ریاض میں ایمرجنسی میٹنگ منعقد ہوئی، میٹنگ میں مشترکہ طور پر تینوں ممالک نے اپنے دفاعی وعدوں پر فوری عمل درآمد پر اتفاق کیا۔ اس کے تحت طے فوجی دستے اور دیگر سیکورٹی طاقتوں کو منظور شدہ انتظامات اور تینوں ممالک کے قوانین کے مطابق جلد سعودی عرب میں تعینات کیا جائے گا۔ میٹنگ میں جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک کی حفاظت ایک دوسرے کی اجتماعی سیکورٹی کا اہم حصہ ہے۔

سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے کہا کہ اتحاد کی اسٹریٹجک سیاسی اور دفاعی کمیٹی نے حالیہ حوثی حملوں کے جواب میں اجتماعی ڈیٹرنس اقدامات کو فعال کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ خالد بن سلمان نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ اتحاد کے فریم ورک کے تحت اجتماعی احتیاطی اقدامات کو فعال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ یمن کے ایران حمایتی حوثی گروپ کے حالیہ حملوں اور اس کے لیے ذمہ دار لوگوں کے جواب میں لیا گیا ہے۔ تینوں ممالک نے کہا ہے کہ اس قدم سے ان کی فوجی تیاریاں مضبوط ہوں گی۔ ساتھ ہی تینوں ممالک کے مابین فوجی ہم آہنگی اور ابھرتے ہوئے خطرات کے خلاف اجتماعی طور پر جواب دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست میں ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ ہونے کی صورت میں تینوں ممالک پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اب حوثی حملوں کے درمیان اس معاہدے کو فعال کرنے سے تینوں ممالک کے مابین فوجی تعاون کا معیار بڑھنے کی بات سامنے آئی ہے۔ معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوجی دستوں اور طاقتوں کی تعیناتی کی تیاری کی جائے گی اور تینوں ملک متحد ہو کر ابھرتے خطرات کے خلاف اجتماعی سیکورٹی مضبوط کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔