دیگر ممالک

’ٹرمپ کے دستخط کی کوئی اہمیت نہیں‘، ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ ختم ہونے پر مجتبیٰ خامنہ ای کا سخت ردعمل

مجتبیٰ خامنہ ای نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مفاہمت نامے (ایم او یو) کی امریکہ کی جانب سے بار بار خلاف ورزی کیا جانا ایک بار پھر اس سچائی کو بے نقاب کرتا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>مجتبیٰ خامنہ ای / آئی اے این ایس</p></div>

مجتبیٰ خامنہ ای / آئی اے این ایس

 

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکہ کی طرف سے ایران پر مسلسل کیے جانے والے حملوں کے حوالے سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتہ (18 جولائی) کو ایک بڑا بیان دیا ہے۔ خامنہ ای نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے امن معاہدے پر دستخط کرنا پوری طرح بے معنی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے بارے میں کہا کہ ان کی کوئی کریڈیبلٹی نہیں ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتہ (18 جولائی) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ پوسٹ میں خامنہ ای نے کہا کہ ’’ایران اور امریکہ کے صدور کی طرف سے دستخط کیے گئے مفاہمت نامے (ایم او یو) کی امریکہ کی جانب سے بار بار خلاف ورزی کیا جانا ایک بار پھر اس سچائی کو بے نقاب کرتا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ان کی کوئی کریڈیبلٹی نہیں ہے۔‘‘

دوسری جانب امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ’ایکس‘ پر ہفتہ (18 جولائی) کو ایک پوسٹ میں اپنے ہلاک اور لاپتہ ہونے والے امریکی فوجی اہلکاروں کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے۔ سینٹ کام نے کہا کہ ’’امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) اور اس کی اتحادی افواج جمعہ (17 جولائی) کو اردن میں ایران کی طرف سے کیے گئے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاعی آپریشن چلا رہے تھے۔ اس دوران 2 امریکی فوجی اہلکار جنگی کارروائی میں ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ، ایک فوجی اہلکار اب بھی لاپتہ ہے۔‘‘

سینٹ کام نے کہا کہ ’’امریکہ کے 4 فوجی اہلکاروں کو علاج کے لیے اردن کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا تھا۔ علاج کے بعد انہیں اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ جبکہ دیگر اہلکار جنہیں معمولی چوٹیں آئی تھیں، ان کا معائنہ کیا گیا اور پھر وہ اپنی ڈیوٹی پر واپس لوٹ چکے ہیں۔‘‘ سینٹ کام نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم امریکی فوج کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے خاندانوں کے احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے ناموں اور دیگر معلومات کو تب تک عام نہیں کریں گے، جب تک ان کے لواحقین کو سرکاری طور پر اطلاع ملنے کے بعد 24 گھنٹے مکمل نہیں ہو جاتے۔‘‘