میری بات: پارلیمانی اجلاس شور و غل کی نذر ہوتا جا رہا ہے...ویڈیو
پارلیمانی جمہوریت کو درپیش چیلنجز، حکومت اور اپوزیشن کی ذمہ داریوں، پارلیمانی مباحثے کے معیار اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کی ضرورت پر ایک قومی آواز کے ڈیجیٹل ایڈیٹر سید خرم رضا کا ایک فکر انگیز تجزیہ
ایک بار پھر پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے جا رہا ہے۔ ہر اجلاس سے پہلے حکومت اپنی ترجیحات کی فہرست تیار کرتی ہے، اپوزیشن اپنے مسائل اور اعتراضات کو سامنے لانے کی حکمت عملی بناتی ہے، میڈیا امکانات پر بحث کرتا ہے اور عوام کو امید بندھتی ہے کہ شاید اس بار ان کے مسائل پر سنجیدگی سے گفتگو ہوگی۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ اجلاس تو منعقد ہوتے ہیں لیکن حکومت کو بچانے اور گرانے کے کھیل میں سب ملوث نظر آتے ہیں جس کے لئے اکثر شور و ہنگامے، نعرے بازی، واک آؤٹ، احتجاج اور تلخ بیانات کی نذر ہو جاتے ہیں۔
آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو سننے کے بجائے صرف خود کو سنانا چاہتی ہیں۔ ہر فریق کو اپنی آواز سب سے زیادہ پسند نظر آتی ہے، اور وہ صرف وہی بات سننا چاہتا ہے جو اس کے سیاسی مفاد کے مطابق ہو۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پارلیمنٹ، جو جمہوریت کا سب سے اہم ادارہ ہے، کئی مرتبہ اپنی اصل ذمہ داری پوری نہیں کر پاتی۔
پارلیمنٹ کتنے گھنٹے چلتی ہے، ایک دن کے اجلاس پر کتنے کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں، کتنے سوالات پوچھے گئے اور کتنے بل منظور ہوئے، یہ سب اعداد و شمار ہر اجلاس کے بعد شائع ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ عوام ان اعداد و شمار پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور نہ ہی سیاست دان انہیں اپنی کارکردگی کا حقیقی پیمانہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے آج ہم ان اعداد و شمار پر گفتگو نہیں کریں گے، بلکہ اس بات پر غور کریں گے کہ پارلیمنٹ کو کس طرح مثبت، مؤثر اور عوامی مفاد کے مطابق چلایا جا سکتا ہے۔
جمہوریت میں پارلیمنٹ صرف قانون سازی کا ادارہ نہیں ہوتی بلکہ یہ حکومت سے جواب طلب کرنے، عوام کے مسائل کو اجاگر کرنے اور قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کا سب سے بڑا پلیٹ فارم بھی ہوتی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں مختلف نظریات رکھنے والے نمائندے ایک دوسرے سے اختلاف بھی کرتے ہیں اور قومی مفاد میں اتفاق بھی پیدا کرتے ہیں۔ اختلاف جمہوریت کی خوبصورتی ہے، لیکن اگر اختلاف دشمنی میں بدل جائے تو جمہوریت کمزور ہونے لگتی ہے۔
دنیا کی کامیاب جمہوریتوں کو دیکھ لیجیے۔ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، جرمنی یا جاپان کی پارلیمان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت بحث ہوتی ہے۔ بعض اوقات ایک دوسرے پر شدید تنقید بھی کی جاتی ہے، لیکن آخر میں ایوان چلتا ضرور ہے۔ سوالات کے جوابات دیے جاتے ہیں، کمیٹیاں اپنا کام کرتی ہیں اور قانون سازی کا عمل نہیں رکتا۔ اختلاف اپنی جگہ قائم رہتا ہے، مگر ادارہ مفلوج نہیں ہوتا۔
ہندوستان جیسے وسیع اور متنوع ملک میں پارلیمنٹ کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہاں مختلف زبانیں، مذاہب، ثقافتیں اور سیاسی نظریات رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔ ان سب کی آواز پارلیمنٹ کے ذریعے سامنے آتی ہے۔ اگر پارلیمنٹ ہی نہ چلے یا صرف شور شرابے کا مرکز بن جائے تو سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو ہوتا ہے، کیونکہ اس کے روزگار، تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، مہنگائی، پانی، ماحولیات اور دیگر بنیادی مسائل پر سنجیدہ بحث کا موقع ضائع ہو جاتا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپوزیشن کو صرف سیاسی مخالف نہ سمجھے بلکہ جمہوری عمل کا لازمی حصہ تصور کرے۔ ایک مضبوط اپوزیشن دراصل ایک مضبوط جمہوریت کی علامت ہوتی ہے۔ اگر اپوزیشن کے سوالات کا تحمل سے جواب دیا جائے، اس کی تجاویز پر غور کیا جائے اور مناسب معاملات میں اس کے ساتھ مشاورت کی جائے تو کئی تنازعات ابتدا ہی میں ختم ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح اپوزیشن کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر مسئلے پر صرف احتجاج کو ہی واحد راستہ نہ سمجھے۔ احتجاج جمہوری حق ضرور ہے، لیکن پارلیمنٹ کے اندر سب سے مؤثر احتجاج دلیل، اعداد و شمار، حقائق اور مضبوط بحث کے ذریعے ہوتا ہے۔ اگر ہر دن صرف نعرے بازی، ایوان کے بیچ میں آ کر احتجاج یا کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے پر صرف ہو جائے تو عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا انہوں نے اپنے نمائندوں کو صرف شور مچانے کے لیے منتخب کیا تھا؟
پارلیمانی کمیٹیوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے، لیکن بدقسمتی سے عوام کی توجہ اکثر صرف ایوان کی کارروائی تک محدود رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سا سنجیدہ کام انہی کمیٹیوں میں ہوتا ہے، جہاں مختلف جماعتوں کے ارکان مل کر بلوں کا جائزہ لیتے ہیں، ماہرین کی رائے سنتے ہیں اور بہتر تجاویز پیش کرتے ہیں۔ اگر ان کمیٹیوں کو مزید مضبوط بنایا جائے اور ان کی سفارشات کو زیادہ اہمیت دی جائے تو قانون سازی کا معیار بہتر ہو سکتا ہے۔
ایک اور مسئلہ سیاسی تلخی کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ آج کل پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی تقریروں سے زیادہ اہمیت پارلیمنٹ کے باہر دیے جانے والے بیانات کو ملتی ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں کئی سیاست دانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کا ایک جملہ وائرل ہو جائے، چاہے اس سے سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس رجحان نے سنجیدہ پارلیمانی مباحثے کو بھی متاثر کیا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پارلیمنٹ صرف حکومت یا اپوزیشن کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے۔ یہاں بیٹھنے والا ہر رکن عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر آتا ہے۔ اس کی پہلی ذمہ داری اپنی جماعت نہیں بلکہ اپنے حلقے کے عوام اور آئین کے تئیں ہوتی ہے۔ اگر یہ احساس ہر رکن کے ذہن میں رہے تو شاید ایوان کی کارروائی کا معیار بھی بہتر ہو۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہر مسئلے کا حل صرف سیاسی محاذ آرائی میں ہے؟ کیا کوئی ایسا ماحول نہیں بنایا جا سکتا جہاں حکومت اور اپوزیشن کم از کم قومی سلامتی، خارجہ پالیسی، تعلیم، صحت، معیشت، زراعت، روزگار، پانی، ماحولیات اور ٹیکنالوجی جیسے بنیادی مسائل پر ایک مشترکہ سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں؟ دنیا کے کئی ممالک میں قومی مفاد کے معاملات پر سیاسی اختلافات کو محدود رکھا جاتا ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میں بھی اس روایت کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
پارلیمنٹ میں نوجوان ارکان کی تعداد بڑھ رہی ہے، خواتین کی نمائندگی بھی مستقبل میں مزید بڑھے گی، اور ملک تیزی سے نئی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور عالمی اقتصادی تبدیلیوں کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ایسے وقت میں پارلیمنٹ کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ آنے والے برسوں کے فیصلے یہیں ہوں گے کہ ہندوستان کس سمت میں آگے بڑھے گا۔
اس لیے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کو محض سیاسی مقابلے کا میدان نہ بنایا جائے بلکہ اسے قومی مکالمے کا مرکز بنایا جائے۔ اختلاف ضرور ہو، لیکن شائستگی کے ساتھ۔ تنقید ضرور ہو، لیکن حقائق کی بنیاد پر۔ حکومت جوابدہ بھی ہو اور اپوزیشن ذمہ دار بھی۔ یہی پارلیمانی جمہوریت کا حسن ہے۔
آخر میں ایک سوال ہم سب کو خود سے پوچھنا چاہیے۔ پارلیمنٹ آخر کس کے لیے ہے؟ حکومت کے لیے، اپوزیشن کے لیے، سیاسی جماعتوں کے لیے یا ان 140 کروڑ ہندوستانیوں کے لیے جنہوں نے اپنے نمائندوں کو اس امید کے ساتھ منتخب کیا کہ وہ ان کی آواز بنیں گے؟
اگر اس سوال کا جواب ’عوام‘ ہے، اور یقیناً یہی صحیح جواب ہے، تو پھر ہر اجلاس کا مقصد بھی عوامی مسائل کا حل ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی برتری ثابت کرنا۔ پارلیمنٹ کی عظمت شور میں نہیں، بلکہ دلیل میں ہے؛ رکاوٹ میں نہیں، بلکہ قانون سازی میں ہے؛ اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں نہیں، بلکہ ملک کو آگے بڑھانے میں ہے۔
جمہوریت صرف انتخابات جیتنے کا نام بن کر رہ گیا ہے اور اس کے لئے چاہے ایک بڑے طبقہ کو نظرانداز ہی کیوں نہ کیا جائے۔ ہمیں یہ چاہئے کہ اختلاف کے باوجود سب کو لےکر ساتھ چلیں۔ جس دن ہماری پارلیمنٹ اس اصول کو پوری طرح اپنا لے گی، اسی دن نہ صرف پارلیمنٹ کا وقار بلند ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگا۔ یہی ایک مضبوط، بالغ اور ذمہ دار جمہوریت کی اصل پہچان ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
