
فائل تصویر آئی اے این ایس
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جمعہ یعنی 28 فروری کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے یوکرین میں برسوں سے جاری جنگ اور امریکہ کے لیے معدنیات کے سودوں پر تبادلہ خیال کیا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق زیلنسکی نے ٹرمپ کے سامنے پوتن کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو کسی قاتل سے سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو روس کے ساتھ امن معاہدہ کرنا ہوگا۔
Published: undefined
امن معاہدے کے ذکر پر زیلنسکی کو غصہ آیا اور ٹرمپ کے ساتھ ان کی گرما گرم بحث ہوئی۔ زیلنسکی نے کہا کہ ہم کسی بھی جنگ بندی کو قبول نہیں کریں گے۔ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ "آپ کا ملک مشکل میں ہے، آپ ہمیں نہیں بتاسکتے کہ کیا کرنا ہے، آپ تیسری عالمی جنگ کا جوا کھیل رہے ہیں، آپ ہمیں آرڈر دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، ہم نے آپ کو ہتھیار، 350 بلین ڈالر دیے، اگر آپ سمجھوتہ نہیں کریں گے تو ہم اس سے نکل جائیں گے۔"
Published: undefined
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ انہیں ایک امن ساز کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں لوگوں کی جان بچانے کے لیے امن معاہدہ چاہتا ہوں، یوکرین ہماری وجہ سے محفوظ ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان بحث اس قدر گرم ہو گئی کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو مداخلت کرنا پڑی۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے زیلنسکی کو دھمکی بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ آج سے تمہارے برے دن شروع ہو گئے ہیں۔
Published: undefined
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ "جنگ کے دوران بھی قوانین ہوتے ہیں۔ امریکہ جنگ میں ہلاکتوں کو روکنا چاہتا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ ہمارے ساتھ ہیں۔ زیلنسکی نے ٹرمپ کو جنگ میں روس کی جانب سے کیے جانے والے مظالم کی تصاویر بھی دکھائیں۔ امریکہ کا پیسہ یوکرین میں تعمیر نو جیسے مختلف کاموں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔" اس ملاقات میں زیلنسکی نے معدنیات کے سودے کے بدلے سیکیورٹی کی ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے کہا کہ وہ معدنی ذخائر کو اپنی سہولت کے مطابق استعمال کریں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined