
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر (ویڈیو گریب)
ایران نے امریکہ کے سامنے 7 دن کا ایک منصوبہ رکھا تھا۔ اس میں آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ اس کے بدلے ایران نے امریکہ سے کچھ اقدامات کرنے کو کہا تھا۔ اب امریکی صدر ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا ہے کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری شروع ہو سکتی ہے۔
ایران کا یہ منصوبہ قطر کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا گیا تھا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ اگر امریکہ اس تجویز کو قبول کرتا ہے تو 7 دن کی مدت اسی دن سے شروع ہوگی۔ ان کے مطابق ضروری تیاریاں پہلے ہی مکمل ہیں۔ اس منصوبہ کے تحت ایران آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے تیار تھا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان جوہری معاملے پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ اس کے بدلے ایران نے امریکہ سے 3 اقدامات کرنے کو کہا تھا۔
ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی ہٹائی جائے۔
ایران کے تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں میں نرمی دی جائے۔
ایسی جنگ بندی نافذ کی جائے، جس میں لبنان بھی شامل ہو۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق امریکہ ان اقدامات کو 4 سے 5 دن میں مکمل کر سکتا ہے۔ اس کے بعد چھٹے دن آبنائے ہرمز کھولنے کی بات تھی۔ ساتویں دن امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے تھے۔
’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ ٹرمپ نے ایران کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ ٹرمپ کو یقین نہیں ہے کہ ایران ان کی شرائط پوری کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ اگر حملہ ہوتا ہے تو اس کی شدت کتنی ہوگی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ بڑے فوجی آپریشن کے لیے پوری طرح تیار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ امریکہ کے پاس موجود ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی ہے۔ امریکہ ان ہتھیاروں کو دیگر ممکنہ ضروریات کے لیے بچا کر رکھنا چاہتا ہے۔
ایران کی جانب سے عراقچی نے کہا تھا کہ اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ ان کے مطابق ایران دباؤ، دھمکی یا ڈرانے کی کوشش کے سامنے اپنے خودمختار حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے چین کے صدر شی جنپنگ کے موقف کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل کرنے کی حمایت کرنے پر شی جنپنگ کا شکریہ ادا کیا۔ فی الحال صورت حال یہ ہے کہ ایران نے 7 دن کا راستہ تجویز کیا ہے، جبکہ ٹرمپ نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا ہے۔ ٹرمپ کو ایران کی جانب سے اپنی شرائط پوری کیے جانے پر شک ہے۔ اسی دوران نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ امریکی بمباری کا امکان سامنے آیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔