
فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فرانس میں ہونے والے مظاہروں کا ذمہ دار ’بڑے پیمانے پر نقل مکانی‘ اور ’اسلام‘ کو ٹھہرایا ہے۔ "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں، ٹرمپ نے کہا، "یہ اسلام کے بارے میں ہے جو ایک ایسے ملک پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو کبھی عظیم تھا!"
پچھلے کچھ دنوں سے اسکولوں میں احتجاج جاری ہے۔ فرانسیسی ہائی اسکول کے طلباء نے اساتذہ کی کمی، بھرے کلاس رومز، ناقص انفراسٹرکچر اور وسائل کی کمی کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ یہ احتجاج آہستہ آہستہ ملک کے کئی شہروں تک پھیل گیا۔ پیرس کے ساتھ ساتھ مارسیلے، لیون، للی اور اسٹراسبرگ جیسے شہروں میں بھی طلباء نے اسکولوںمیں احتجاج شروع کر دیا ۔ کئی مقامات پر مظاہروں نے پرتشدد شکل اختیار کر لی اور پولیس کو آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
اس معاملے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو فرانس میں جاری طلبہ کے احتجاج پر شدید حملہ کیا۔ ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، "فرانس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بے قابو بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔" انہوں نے واضح طور پر لکھا، "یہ اسکولوں کے بارے میں نہیں ہے، یہ فرانس جو کبھی ایک عظیم ملک تھا اس پر قبضہ کرنے کے اسلام کے ارادے کے بارے میں ہے۔‘‘
فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق منگل کو ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ منتظمین نے تعداد 400,000 سے زیادہ بتائی۔ مظاہرین کا بنیادی مسئلہ تعلیمی نظام کو بہتر بنانا تھا۔ تاہم، کچھ مظاہروں میں تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد سیاسی بحث میں شدت آگئی۔
ٹرمپ نے ان واقعات کو براہ راست اسلام اور ہجرت سے جوڑا ہے۔ ٹرمپ اس سے قبل یورپ کی مائیگریشن پالیسیوں پر تنقید کر چکے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے طویل عرصے سے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سرحدیں سخت کریں۔ فرانس میں دائیں بازو کی جماعتوں نے بھی ان مظاہروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔