
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ٹیرف معاملہ میں ایک بار پھر عدالت نے شدید دھچکا دیا ہے۔ امریکی ٹریڈ کورٹ نے ٹرمپ کی طرف سے عائد کیے گئے 10 فیصد ٹیرف کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ ٹرمپ کے ٹیرف کو غیر آئینی قرار دے ہی چکی تھی۔ تاہم، عدالت نے صرف 2 پرائیویٹ درآمد کنندگان اور واشنگٹن ریاست کے لیے ہی ٹیرف پر روک لگائی ہے۔
Published: undefined
ایسوسی ایٹیڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق نیویارک میں کورٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ کے 3 ججوں کے پینل نے 1-2 سے سنائے گئے فیصلہ میں کہا کہ چھوٹے کاروباروں کی طرف سے دائر مقدمات کے بعد 10 فیصد ٹیرف غیرقانونی تھے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے قانون کے تحت کانگریس کی جانب سے صدر کو دیے گئے اختیارات کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ٹیرف کو ’غیر مؤثر‘ اور ’غیر مجاز‘ قرار دیا۔ فی الحال عدالت کے فیصلے نے براہ راست واشنگٹن ریاست اور 2 کمپنیوں (مسالہ کمپنی برلاپ اینڈ بیرل اور کھلونا کمپنی بیسک فن) سے ٹیرف کی وصولی روکنے کا فیصلہ سنایا ہے۔
Published: undefined
یہ تنازعہ ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے فروری میں سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد عائد کیے گئے عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف سے متعلق ہے، جس میں گزشتہ سال تقریباً ہر ملک پر لگائے گئے بڑے ڈبل ڈیجٹ ٹیرف کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ فروری میں لگائے گئے نئے ٹیرف 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 122 کے تحت نافذ کیے گئے تھے اور 24 جولائی کو ختم ہونے والے ہیں۔ اسی معاملہ پر عدالت میں سماعت ہوئی۔ تاہم عدالت نے باقی 24 درآمد کنندگان پر ٹیرف نہ لگانے کی تجویز ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ ابھی صرف 3 درآمد کنندگان کو ہی اس سے چھوٹ ملی ہے۔
Published: undefined
چھوٹے کاروباریوں کی طرف سے مقدمہ لڑنے والے لبرٹی جسٹس سینٹر کے سینئر وکیل جیفری شواب نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کارروائی اس بات پر منحصر کرے گی کہ ٹرمپ انتظامیہ کیا قدم اٹھاتی ہے اور کیا امریکی محکمۂ انصاف اس فیصلے کے خلاف اپیل کرتا ہے۔ اس درمیان مقدمہ دائر کرنے والی کمپنیوں میں شامل ’بیسک فن اِنک‘ کے سی ای او جے فورمین نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ چھوٹے کاروباروں کے لیے اس طرح قانونی لڑائی لڑنا بے حد ہمت کی بات ہے۔ فورمین کے مطابق ان کی کمپنی اب تک متنازعہ ٹیرف کے تحت ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ ادا کر چکی ہے۔
Published: undefined
اس سے قبل امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی طرف سے منمانے انداز میں لگائی گئی ٹیرف شرحوں کو غیر قانونی قرار دیا تھا، جس کے بعد ٹرمپ نے 10 فیصد ٹیرف منصوبہ تیار کیا تھا۔ سپریم کورٹ کا یہ تاریخی فیصلہ 3-6 سے آیا تھا۔ عدالت نے اس وقت کہا تھا کہ ٹرمپ پہلے ایسے صدر تھے جنہوں نے 1970 کی دہائی کے ایک ایمرجنسی قانون کا حوالہ دے کر 100 سے زیادہ ممالک پر ٹیرف عائد کیا۔ اتنا ہی نہیں، ٹیرف کی دھمکی دے کر انہوں نے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے بھی کیے۔ اس قانون میں کہیں بھی ’ٹیرف‘ لفظ کا ذکر نہیں ہے، اس لیے عدالت نے اسے غیر آئینی قرار دیا تھا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا