دیگر ممالک

امریکہ 30 سال سے زیادہ عمر کے فوجیوں کا کرائے گا ’ہارمون ٹیسٹ‘، لیکن کیوں؟

امریکی وزیر دفاع کے مطابق اب ہر سال 30 سال یا اس سے زیادہ عمر کے امریکی فوجیوں کا طبی معائنہ ہوگا۔ اس میں ان کے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کی پیمائش کی جائے گی۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی فوجی</p></div>

امریکی فوجی

 

امریکی حکومت 30 سال سے زیادہ عمر کے فوجیوں کا ہارمون ٹیسٹ کرانے والی ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بدھ کے روز اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 30 سال سے زیادہ عمر کے فوجیوں کے لیے سال میں ایک بار ’ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ‘ کرانا ضروری ہوگا۔ اس کا مقصد فوجیوں میں ٹیسٹوسٹیرون یعنی اس ہارمون کی کمی کو دور کرنا ہے، تاکہ فوجی پوری طاقت اور صلاحیت کے ساتھ کام کر سکیں۔

ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ جن فوجیوں میں ٹیسٹوسٹیرون کمی پائی جائے گی، انہیں جانچ کے بعد ضرورت پڑنے پر ’ٹیسٹوسٹیرون ریپلیسمنٹ تھراپی‘ بھی دی جائے گی، جس سے فوجیوں کے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح درست رہے۔ اس سے وہ اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر سکیں گے۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ سائنس بھی یہ مانتی ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح قدرتی طور پر کم ہونے لگتی ہے۔

امریکی وزیر دفاع کے مطابق اب ہر سال 30 سال یا اس سے زیادہ عمر کے امریکی فوجیوں کا طبی معائنہ ہوگا۔ اس میں ان کے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کی پیمائش کی جائے گی۔ اگر کسی فوجی کے جسم میں اس ہارمون کی کمی پائی جاتی ہے تو وہ اپنی مرضی سے ’ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی‘ لے سکتا ہے۔ 30 سال سے کم عمر فوجی بھی درخواست دے کر یہ جانچ کرا سکتے ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی حکومت کے محکمۂ صحت نے ٹیسٹوسٹیرون کے علاج سے متعلق کچھ پرانے سخت قوانین میں نرمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، اس فیصلے پر ڈیموکریٹس نے سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے کچھ عرصہ قبل ٹرانس جینڈر فوجیوں کے ہارمون علاج پر پابندی لگا دی تھی۔ اپوزیشن لیڈران (سمر لی اور سینیٹر ٹیمی ڈک ورتھ) کا کہنا ہے کہ جب حکومت عام فوجیوں کو ہارمون تبدیل کرنے کا علاج دے رہی ہے، تو یہ بھی ایک طرح کی ’جینڈر-افرمنگ کیئر‘ ہی ہے۔ پھر ٹرانس جینڈر فوجیوں کے لیے الگ قوانین کیوں؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔