برازیل پر 25 فیصد ٹیرف لگائے گا امریکہ، مارکو روبیو کا بڑا اعلان

مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’’صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے برازیل سے آنے والی زیادہ تر مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کی ہدایت دی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>مارکو روبیو، ویڈیو گریب</p></div>
i

امریکہ نے برازیل سے درآمد ہونے والے زیادہ تر سامان پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ فیصلہ 22 جولائی سے نافذ ہوگا۔ امریکی افسران کا کہنا ہے کہ ایک سال تک جاری رہنے والی تحقیقات میں برازیل کی کئی تجارتی پالیسیاں غیر منصفانہ پائی گئیں، جس کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صدر لوئس اناسیو لولا دا سلوا پر شدید تنقید بھی کی۔

وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر لولا اور ان کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ اچھی نیت سے بات چیت نہیں کی۔ روبیو نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’’صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے برازیل سے آنے والی زیادہ تر مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کی ہدایت دی ہے۔‘‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’لولا کی اقتصادی پالیسیاں نہ صرف امریکی مفادات کے خلاف ہیں، بلکہ برازیل کے عوام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔‘‘


روبیو نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے لولا نے برازیل کے لوگوں کے مفادات کے بجائے اپنی انا کو ترجیح دی اور امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کا موقع گنوا دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب یہی رویہ برازیل پر لگائے گئے نئے ٹیرف کی وجہ بنا ہے۔ برازیل نے اسے یکطرفہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے (یو ایس ٹی آر) کی تحقیقات کے مطابق برازیل پر بدعنوانی کے خاتمے کے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ نہ کرنے، اپنے یہاں غیر منصفانہ امپورٹ ڈیوٹی لگانے اور کئی ایسی پالیسیاں اپنانے کے الزامات ہیں، جنہیں امریکہ نے منصفانہ تجارت کے خلاف مانا ہے۔ حالانکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ مصنوعات کی تجارت میں امریکہ گزشتہ کئی سالوں سے برازیل کے ساتھ ٹریڈ سرپلس کی پوزیشن میں ہے۔


نئے حکم نامے کے تحت کچھ ضروری مصنوعات کو ٹیرف سے چھوٹ دی گئی ہے تاکہ امریکی سپلائی چین متاثر نہ ہو۔ ان میں کافی، بیف، سنترا، سنترے کا جوس، کچھ تیل اور گیس سے جڑی توانائی کی مصنوعات، اور ایرو اسپیس انڈسٹری کے پرزے اور کمپونینٹس شامل ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے پہلی بار جون کے آغاز میں ان ٹیرف کی تجویز پیش کی تھی۔ اس کے بعد برازیل کے صدر لوئس اناسیو لولا دا سلوا نے اس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ اس فیصلے کے پیچھے تجارت نہیں بلکہ سیاست ہے۔ لولا نے اپنے سیاسی حریف اور سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے، سینیٹر فلاویو بولسونارو پر واشنگٹن میں امریکہ کو متاثر کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر افسران نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر تجارتی مسائل پر مبنی ہے اور امریکہ طویل عرصے سے ان خدشات کو عوامی سطح پر اٹھاتا رہا ہے۔ امریکی افسران کے مطابق برازیل حکومت کو ان مسائل کے حل کے لیے کافی وقت دیا گیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ 6 ہفتوں میں بات چیت بھی ہوئی لیکن امریکہ کا ماننا ہے کہ امید کے مطابق پیش رفت نہیں ہوئی۔ اسی وجہ سے اب 22 جولائی سے 25 فیصد ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔