دیگر ممالک

سونے کی تلاش نے زندگی جوکھم میں ڈالا، سینکڑوں فیٹ گہرے غار میں پھنسے 7 لوگوں کا ریسکیو مشکل

ایک اطمینان کی بات یہ ہے کہ پھنسے ہوئے لوگ غار کے اندر ایک اونچی جگہ پر موجود ہیں، جہاں تک ہوا پہنچ رہی ہے اور ان کی حالت فی الحال مستحکم بتائی جا رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div>

علامتی تصویر، اے آئی

 

7 لوگوں کا ایک گروپ سونے کی تلاش میں نکلا تھا، لیکن ان کا یہ سفر اچانک ایک خوفناک جال میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک گہرے اور خطرناک غار میں داخل ہونے والے یہ لوگ اچانک آنے والے سیلاب کی وجہ سے اندر ہی پھنس گئے۔ اب تاریکی، بھوک اور بڑھتے خطرات کے درمیان ان کی جان بچانے کے لیے ریسکیو ٹیمیں وقت کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔

Published: undefined

یہ واقعہ جنوب مشرقی ایشیا کے ملک لاؤس کا ہے، جو چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے۔ یہاں صوبہ سائیسومبون کے ایک غار میں یہ 7 افراد 20 مئی سے پھنسے ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ تمام لوگ سونا تلاش کرنے کی نیت سے غار کے اندر گئے تھے، لیکن اچانک ہونے والی شدید بارش کے باعث سیلاب آ گیا اور باہر نکلنے کا راستہ مکمل طور پر بند ہو گیا۔

Published: undefined

میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی دنوں کی تلاش کے بعد اس وقت راحت کی خبر ملی جب خصوصی غوطہ خوروں نے 5 افراد کو زندہ تلاش کر لیا۔ وہ غار کے اندر ایک تنگ جگہ پر، باہر نکلنے کے راستے سے تقریباً 300 میٹر دور بیٹھے ہوئے ملے۔ تاہم انہیں تلاش کر لینا ہی کافی نہیں تھا، انھیں بحفاظت باہر نکالنا اب بھی ایک انتہائی مشکل چیلنج بنا ہوا ہے۔ باقی 2 افراد کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا، جس سے تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔

Published: undefined

اس ریسکیو آپریشن کو جو بات مشکل بناتی ہے، وہ غار کی ساخت ہے۔ یہ غار پہاڑوں کے درمیان ایک دور دراز علاقے میں واقع ہے اور کافی گہرائی تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کا داخلی راستہ انتہائی تنگ ہے، جہاں امدادی اہلکاروں کو جھک کر یا رینگتے ہوئے آگے بڑھنا پڑ رہا ہے۔ بعض مقامات پر غار اس قدر تنگ ہے کہ ایک وقت میں صرف ایک شخص ہی گزر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اندر پھسلن بھرے پتھر، گہری ڈھلانیں اور مسلسل بڑھتا ہوا پانی حالات کو مزید خطرناک بنا رہے ہیں۔

Published: undefined

جمعرات کی صبح ہونے والی بارش نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا، جس کے باعث غار کے اندر پانی اور کیچڑ بڑھ گیا۔ اس دوران بین الاقوامی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے۔ 2018 میں تھائی لینڈ کے غار میں پھنسنے والی ’وائلڈ بورز‘ فٹبال ٹیم کو بچانے والے تجربہ کار غوطہ خور بھی اس مشن میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ممالک سے ماہرین کی آمد کی توقع ہے تاکہ امدادی کارروائی کو تیز کیا جا سکے۔

Published: undefined

ایک اطمینان کی بات یہ ہے کہ پھنسے ہوئے لوگ غار کے اندر ایک اونچی جگہ پر موجود ہیں، جہاں تک ہوا پہنچ رہی ہے اور ان کی حالت فی الحال مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ تاہم بھوک اور کمزوری مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پھنسے ہوئے افراد میں سے ایک نے کیمرے پر کہا کہ اگر جلد مدد نہ ملی تو ان کی طاقت جواب دے سکتی ہے۔

Published: undefined

ریسکیو ٹیم کے سامنے اب آکسیجن کی کمی اور زہریلی گیس جیسی نئی مشکلات بھی کھڑی ہو گئی ہیں۔ غار کے اندر چمگادڑوں کی سڑی ہوئی بیٹ سے نکلنے والی ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس نے حالات کو سنگین بنا دیا ہے۔ اس کی وجہ سے کچھ امدادی اہلکار بے ہوش بھی ہو چکے ہیں۔ اس پورے واقعہ نے ایک بار پھر دکھا دیا ہے کہ فطرت کے سامنے انسان کتنا بے بس ہو سکتا ہے۔ فی الحال سبھی کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ یہ تمام لوگ بحفاظت باہر نکل پائیں گے یا نہیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined