پارلیمانی اجلاس اور ’چلو پارلیمنٹ‘ مارچ کے پیش نظر دہلی میں ٹریفک ایڈوائزری جاری، متعدد راستوں پر پابندیاں

پارلیمانی اجلاس اور ’چلو پارلیمنٹ‘ مارچ کے پیش نظر دہلی ٹریفک پولیس نے خصوصی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ متعدد راستوں پر پابندیاں اور نئی دہلی کے حساس علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>دہلی پولیس، فائل تصویر ویپن</p></div>
i

نئی دہلی: پارلیمانی اجلاس کے آغاز اور ’چلو پارلیمنٹ‘ مارچ کے اعلان کے پیش نظر دہلی ٹریفک پولیس نے خصوصی ٹریفک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں کو متعدد اہم راستوں سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ پولیس کے مطابق نئی دہلی رینج میں خصوصی ٹریفک انتظامات نافذ کر دیے گئے ہیں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی سفری منصوبہ بندی پہلے سے کر لیں اور منزل تک پہنچنے کے لیے اضافی وقت اپنے پاس رکھیں۔

ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی اجلاس اور مجوزہ مارچ کے باعث نئی دہلی کے کئی اہم علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر رہ سکتی ہے۔ جن اہم سڑکوں پر دباؤ بڑھنے یا آمد و رفت میں رکاوٹ کا امکان ہے ان میں رفیع مارگ، موتی لال نہرو مارگ، مولانا آزاد روڈ، کے کامراج مارگ، رائے سینا روڈ، راجندر پرساد روڈ، پارلیمنٹ اسٹریٹ، اشوک روڈ، تالکٹورا روڈ، پنڈت پنت مارگ اور رکاب گنج گوردوارہ روڈ شامل ہیں۔

دہلی ٹریفک پولیس نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ وجے چوک، بوٹ کلب، ریل بھون گول چکر، سنہری مسجد گول چکر، پٹیل چوک گول چکر، بوٹا سنگھ گول چکر، پرائم چوک گول چکر، جی آر جی گول چکر اور جلیبی چوک گول چکر سے حتی الامکان گریز کریں تاکہ غیر ضروری تاخیر اور ٹریفک جام سے بچا جا سکے۔


ایڈوائزری میں متبادل راستوں کے استعمال کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق جن پتھ، مان سنگھ روڈ، اکبر روڈ، تین مورتی مارگ، شانتی پتھ، مولانا ابوالکلام آزاد روڈ، کمال اتاترک مارگ، پنچ شیل مارگ، ونے مارگ، کناٹ پلیس کا آؤٹر سرکل، بابا کھڑک سنگھ مارگ، آر ایم ایل گول چکر، مدر ٹریسا کریسنٹ روڈ، گیارہ مورتی اور سردار پٹیل مارگ کو متبادل راستوں کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی دہلی ضلع میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ دہلی پولیس نے اضافی اہلکار تعینات کر دیے ہیں جبکہ اہم داخلی مقامات پر بیریکیڈنگ کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نئی دہلی میں داخل ہونے والی تمام گاڑیوں کی سخت جانچ پڑتال بھی کی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق مجوزہ مارچ کے پیش نظر کئی اہم مقامات کو ہائی سکیورٹی زون میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں کثیر سطحی بیریکیڈنگ، مسلسل نگرانی، تخریب کاری کے خدشات سے نمٹنے کے لیے خصوصی تلاشی اور چوبیس گھنٹے گشت کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہ حفاظتی اقدامات نئی دہلی، وسطی دہلی اور شمالی دہلی کے بعض علاقوں میں نافذ رہیں گے۔

پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ جنتر منتر، پارلیمنٹ اسٹریٹ، سینٹرل وسٹا، کناٹ پلیس اور شنکر چوک سمیت حساس مقامات پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری کارروائی کرنے والی ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پارلیمانی اجلاس کے دوران نئی دہلی ضلع میں کسی بھی قسم کے احتجاجی مظاہرے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔