فرار ہو جانے والی رہنما کی واپسی...فیصل محمود

اب سوال یہ نہیں کہ شیخ حسینہ وطن واپس جانا چاہتی ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا حالات انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں ان کی جلاوطنی اب ایک بند گلی بنتی جا رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

اگست 2024 سے ہندوستان میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والی شیخ حسینہ کے اس اچانک اعلان نے کہ وہ رواں سال کے اختتام تک بنگلہ دیش واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں، سب کو چونکا ضرور دیا ہے، لیکن یہ غیر متوقع نہیں تھا۔ طلبہ کی عوامی تحریک کے دباؤ میں بنگلہ دیش چھوڑنے کے بعد تقریباً دو برس تک وہ سیاسی طور پر سرگرم اور جارحانہ انداز اختیار کیے رہیں اور اپنی ممنوع قرار دی گئی جماعت، عوامی لیگ، کو زندہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہیں۔ وہ وطن واپسی اور دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے کی بات بھی کرتی رہی ہیں، لیکن ان کے حامی بھی جانتے ہیں کہ 78 برس کی عمر میں ان کی سیاسی واپسی کے امکانات نہایت محدود ہیں۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں معزول سابق وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ وطن واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے، پھانسی دی جا سکتی ہے یا ان کا قتل بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے اصرار کیا کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اسی سرزمین پر مرنا چاہتی ہیں جہاں ان کے والدین مدفون ہیں اور جہاں ان کا خون بہا تھا۔

انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے نومبر 2025 میں مظاہرین کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن سے متعلق انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں انہیں سزائے موت سنائی تھی۔ اس کے بعد قتل اور بدعنوانی کے متعدد مقدمات بھی ان کے خلاف قائم کیے گئے۔ ڈھاکہ نے بارہا ہندوستان سے ان کی حوالگی کی درخواست کی، جبکہ نئی دہلی نے اس معاملے پر عوامی سطح پر کوئی واضح مؤقف اختیار کرنے سے گریز کیا۔

بنگلہ دیشی حکومت نے شیخ حسینہ کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ ملک پہنچتے ہی انہیں گرفتار کرکے مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے جیل بھیج دیا جائے گا۔ حکومتی ترجمان نے طنزیہ انداز میں یہاں تک کہا کہ سابق وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ اپنی قانونی لڑائی کے لیے دنیا کے بہترین وکلا کو اپنے ساتھ لے کر آئیں۔


ہندوستان نے سرکاری طور پر کہا ہے کہ حوالگی کی درخواست کا قانونی پہلوؤں سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس معاملے میں اس کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہندوستان نے شیخ حسینہ کو باضابطہ طور پر سیاسی پناہ نہیں دی ہے۔ اگست 2024 میں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد سے وہ ہندوستان میں ایک خصوصی مہمان کے طور پر مقیم ہیں، تاہم ان کی قانونی حیثیت کو دانستہ طور پر واضح نہیں کیا گیا ہے۔

جلاوطنی کی زندگی گزارنے والی سابق وزیر اعظم کا یہ اعلان اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ ان کے سیاسی امکانات کس قدر محدود ہو چکے ہیں۔ طلبہ تحریک کے بعد ہندوستان فرار ہونے کے بعد پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ان کی جلاوطنی کی زندگی اب زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی۔ ڈھاکہ کی جانب سے بڑھتا ہوا قانونی دباؤ، ہندوستان کی نازک سفارتی حکمت عملی، عوامی لیگ کے تنظیمی ڈھانچے کا بکھر جانا اور عوامی حمایت میں مسلسل کمی نے ان کے لیے سیاسی گنجائش نہایت محدود کر دی ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ شیخ حسینہ واپس جانا چاہتی ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا حالات انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

شیخ حسینہ نے اپنی ممکنہ واپسی کے لیے ایک ابتدائی ٹائم لائن بھی پیش کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر خود کو قانون کے حوالے کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ عوامی لیگ کے کئی سینئر رہنما، جن میں سابق وزیر داخلہ اسد الزماں خان کمال بھی شامل ہیں، وطن واپس جائیں گے۔ اسد الزماں خان کمال کو بھی سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ اس قدر منظم اور مربوط اعلان کو محض ایک سیاسی ڈراما قرار دے کر مسترد کرنا آسان نہیں۔

ہندوستان نے مسلسل یہ بتانے سے انکار کیا ہے کہ آیا وہ بنگلہ دیش کی جانب سے کی جانے والی حوالگی کی درخواستوں کو قبول کرے گا یا نہیں۔ وزارت خارجہ کے حکام نے ان کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ حکومت کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور حوالگی کا معاملہ ایک قانونی مسئلہ ہے، جس سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ سفارتی زبان اکثر اپنے کہے ہوئے سے زیادہ اپنے ان کہے الفاظ کے ذریعے بہت کچھ بیان کر دیتی ہے۔


نئی دہلی نے ڈھاکہ کی درخواستوں کو براہ راست مسترد کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔ اسی طرح ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ اگست 2024 سے شیخ حسینہ کو اپنے یہاں رکھنے کے باوجود ہندوستان نے کبھی انہیں سیاسی پناہ دینے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ یہ فرق بہت اہم ہے، کیونکہ سیاسی پناہ دینے کا مطلب انہیں غیر معینہ مدت تک تحفظ فراہم کرنے کا عہد کرنا ہوتا ہے۔

اس کے برعکس، وہ اب بھی ایک ایسی حساس مہمان ہیں جن کی موجودگی بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی ہندوستانی کوششوں کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ہندوستان نے وزیر اعظم طارق رحمان کی حلف برداری کی تقریب میں ایک بڑا وفد بھیجا تھا۔ اس کے بعد بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے نئی دہلی کا دورہ کیا، جو حکومت کی تبدیلی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم دو طرفہ سفارتی رابطہ تھا۔ دونوں ممالک نے تجارت، رابطہ کاری اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر خاموشی سے دوبارہ بات چیت شروع کر دی ہے۔ ایسے میں بنگلہ دیش کی موجودہ سیاست کی سب سے زیادہ متنازع شخصیت کو غیر معینہ مدت تک پناہ فراہم کرنا ہندوستان کے لیے دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ہندوستان کے لیے یہ مخمصہ نہایت گہرا ہے۔ پندرہ برس سے زائد عرصے تک نئی دہلی نے شیخ حسینہ کی حکومت پر بھرپور سرمایہ کاری کی۔ ان کی حکومت جنوبی ایشیا میں ہندوستان کی سب سے قریبی تزویراتی شراکت دار بن گئی تھی، جس نے شمال مشرقی ہندوستان میں سرگرم شورش پسند تنظیموں کے خلاف غیر معمولی سکیورٹی تعاون فراہم کیا اور ساتھ ہی اقتصادی انضمام اور علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دیا۔ ایسے اتحادی کو مکمل طور پر تنہا چھوڑ دینا خطے میں ہندوستان کے دیگر شراکت داروں کے درمیان اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اس کے باوجود، انسانیت کے خلاف جرائم میں سزائے موت پانے والی ایک سابق رہنما کو مسلسل تحفظ فراہم کرنے کی بھی اپنی سفارتی قیمت ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران کم از کم 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں بالآخر شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اگرچہ وہ ان نتائج کو مسترد کرتی ہیں، لیکن ان پر عائد الزامات کی سنگینی انہیں ایک سفارتی بوجھ بنا دیتی ہے۔


ڈھاکہ کی جانب سے آنے والی ہر نئی حوالگی کی درخواست ہندوستان پر دباؤ میں اضافہ کرتی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں ہونے والی ہر بہتری نئی دہلی کے لیے اس معاملے کو مزید طول دینے کی گنجائش کم کرتی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہندوستان نے انہیں حوالہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کی قانونی کارروائی نہایت پیچیدہ ہے۔ ہندوستانی عدالتیں اس بات کا جائزہ لے سکتی ہیں کہ آیا انہیں منصفانہ سماعت کا موقع ملے گا یا نہیں۔ تاہم، ہندوستان کے لیے اپنی اس مبہم پالیسی کا دفاع کرنا وقت کے ساتھ زیادہ مشکل ہوتا جائے گا۔

آج دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جو متعدد فوجداری مقدمات اور بار بار کی جانے والی حوالگی کی درخواستوں کا سامنا کرنے والے کسی معزول رہنما کو رضاکارانہ طور پر اپنے یہاں پناہ دینے پر آمادہ ہو۔ مغربی جمہوری ممالک ایسے شخص کی خاطر سفارتی تنازع مول لینے کا خطرہ مول نہیں لیں گے جس پر اجتماعی قتلِ عام کے الزامات عائد ہوں۔ یہاں تک کہ خلیجی بادشاہتوں نے بھی سیاسی طور پر متنازع جلاوطن رہنماؤں کی میزبانی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔

روس ایک نظریاتی امکان ضرور ہو سکتا ہے، لیکن ماسکو بھی غالباً اس راستے پر چلنے سے گریز کرے گا، کیونکہ وہ بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان کئی بڑے تجارتی منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے مشیر برائے اطلاعات، جاہد الرحمٰن نے کہا ہے کہ ان کی حکومت شیخ حسینہ کو وطن واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے اور ان کی واپسی کا خیر مقدم کرے گی۔ انہوں نے ان خدشات کو مسترد کر دیا کہ شیخ حسینہ کی واپسی سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہوگا اور کہا کہ ان کا اب کوئی سیاسی مستقبل باقی نہیں رہا۔ ان کے بقول، ٹریبونل کی کارروائی شفاف ہوگی اور بین الاقوامی مبصرین کے لیے کھلی رہے گی۔ یہ اعتماد اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ طلبہ تحریک کے بعد سے بنگلہ دیش کا سیاسی منظرنامہ کس قدر تبدیل ہو چکا ہے۔


اقتدار سے محروم ہونے سے قبل عوامی لیگ اور ریاستی اقتدار ایک دوسرے سے الگ تصور نہیں کیے جاتے تھے۔ تقریباً دو دہائیوں تک اقتدار میں رہنے کے باعث شیخ حسینہ نے تمام اہم فیصلوں کو اپنی ذات تک محدود کر لیا تھا۔ ریاستی ادارے ان کے شخصی اقتدار کے گرد گھومتے تھے۔ ان کے اچانک اقتدار سے ہٹنے کے بعد اس حد سے زیادہ اختیارات کے ارتکاز کے نتائج کھل کر سامنے آ گئے۔ جماعت کے کئی سینئر رہنما ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے جبکہ دیگر اب بھی روپوش ہیں۔

شیخ حسینہ کا یہ اعتراف کہ عملی طور پر عوامی لیگ کے تقریباً تمام کارکنان کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ان کی جانب سے اجتماعی طور پر خود کو قانون کے حوالے کرنے کی تجویز دراصل جماعتی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے اور مسلسل زوال کے دو برس بعد کارکنان کے حوصلے بلند رکھنے کی ایک کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ حوالگی کے ذریعے واپس بھیجے جانے کے بجائے رضاکارانہ طور پر وطن واپسی شاید انہیں اپنی سیاسی خودمختاری اور ساکھ کو کسی حد تک برقرار رکھنے میں مدد دے سکے۔

وہ اپنی خودسپردگی کو جبری بے دخلی کے بجائے سیاسی انتقام کے خلاف ایک اصولی مؤقف کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کریں گی۔ لیکن وطن واپسی کا مطلب فوری گرفتاری، قید اور اس کے بعد فوجداری مقدمات کا سامنا بھی ہے۔ طلبہ کی ہلاکتیں اب بھی بنگلہ دیشی عوام کے لیے ایک تازہ زخم ہیں اور عوامی غم و غصہ کسی بھی وقت سکیورٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ اس کے باوجود، شیخ حسینہ کے لیے ہندوستان فرار ہو کر آنے کے بعد کی یہ جلاوطنی اب ایک بند گلی میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

(فیصل محمود، ڈھاکہ میں مقیم ایک سینئر صحافی ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔