دیگر ممالک

آبنائے ہرمز میں جہازوں کے لیے عارضی کوریڈور کا راستہ ہو رہا ہموار، ایران اور عمان میں اتفاق قائم!

ایران اور عمان نے مشترکہ عارضی بحری گزرگاہ بنانے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ دونوں ممالک اس راستے سے سمندری بارودی سرنگیں ہٹانے پر بھی متفق ہو گئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، سوشل میڈیا</p></div>

علامتی تصویر، سوشل میڈیا

 

ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک عارضی بحری راستہ بنانے پر بات چیت کی ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کشیدگی اور اقتصادی دباؤ کے درمیان عمان کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت دوبارہ شروع ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے اس آبی گزرگاہ کو لے کر بات چیت جاری تھی۔ منگل کو ایران اور عمان نے مشترکہ عارضی بحری گزرگاہ بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ممالک اس راستے سے سمندری بارودی سرنگیں ہٹانے پر بھی متفق ہو گئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پہلے ہی دعویٰ کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست لڑائی اب کافی کم ہو گئی ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کو لے کر بات چیت آگے نہیں بڑھ پا رہی ہے۔ اس لیے آبنائے ہرمز سے گزرنا اب بھی خطرناک بنا ہوا ہے۔

بہرحال، منگل کو عمان کے الشیشہ علاقے سے تقریباً 9 ناٹیکل میل یعنی 17 کلومیٹر شمال مشرق میں ایک تیل ٹینکر پر نامعلوم پروجیکٹائل سے حملہ کیا گیا۔ حملے کے بعد ٹینکر چل نہیں سکا۔ برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے اس کی اطلاع دی۔ اسی دن امریکی سیکریٹ سروس نے کہا کہ اسے ایرانی سرکاری ٹی وی پر دکھائی گئی ایک ویڈیو کی اطلاع ہے۔ ویڈیو میں امریکی صدر ٹرمپ کے 20 سالہ بیٹے بیرن ٹرمپ کے قتل کی مبینہ سازش کا ذکر کیا گیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ بیرن کی نگرانی کی جا رہی ہے اور اس کے قتل کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا انعام رکھا گیا ہے۔

اس درمیان امریکہ نے ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ان ممالک کو سزا دینے کی دھمکی دی ہے جو ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھیں گے۔ تاہم امریکہ نے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔ وہیں، امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے کچھ سفارت خانوں میں ملازمین کو واپس بھیجنا شروع کر دیا ہے۔ ان ملازمین کو ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے بعد واپس بلایا گیا تھا۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ کو فی الحال تنازعہ بڑھنے کا خطرہ کم محسوس ہو رہا ہے۔ تاہم کچھ سفارت خانے ابھی پوری صلاحیت کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔