دیگر ممالک

اسپین: ہائی اسپیڈ ٹرینوں کی خوفناک ٹکر میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 39 پہنچی، 70 سے زائد زخمی

اسپینش ریل آپریٹر اے ڈی آئی ایف نے بتایا کہ اتوار کو جنوبی اسپین میں ایک تیز رفتار ٹرین پٹری سے اتر گئی اور برعکس سمت سے آ رہی ٹرین سے ٹکرا گئی۔

<div class="paragraphs"><p>اسپن ہائی اسپیڈ ٹرین حادثہ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

اسپن ہائی اسپیڈ ٹرین حادثہ، تصویر سوشل میڈیا

 

جنوبی اسپین میں 2 ہائی اسپیڈ ٹرینوں کی آپس میں ہوئی خوفناک ٹکر میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 39 پہنچ گئی ہے۔ اس حادثہ میں 70 سے زائد افراد زخمی بتائے جا رہے ہیں، جن کا مختلف اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔ یہ حادثہ کارڈوبا علاقہ واقع آدموز کے قریب پیش آیا، جس سے افرا تفری والے حالات پیدا ہو گئے۔ حادثہ کے بعد میڈرڈ اور اندلس کے درمیان ریل خدمات بھی معطل ہو گئی۔

Published: undefined

موصولہ اطلاع کے مطابق ملاگا سے میڈرڈ جا رہی ایک ٹرین پٹری سے اتر گئی اور سامنے سے آ رہی دوسری ٹرین سے ٹکرا گئی۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ دونوں ٹرینوں میں تقریباً 500 مسافر سوار تھے۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مہلوکین کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے، کیونکہ زخمیوں میں سے کئی کی حالت سنگین بنی ہوئی ہے۔

Published: undefined

اسپینش ریل آپریٹر اے ڈی آئی ایف نے بتایا کہ اتوار کو جنوبی اسپین میں ایک تیز رفتار ٹرین پٹری سے اتر گئی اور برعکس سمت سے آ رہی ٹرین سے ٹکرا گئی۔ ایمرجنسی سروسز نے ابتدائی جانکاری میں بتایا تھا کہ اس ٹکر میں 21 لوگوں کی موت ہوئی، جبکہ 70 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ لیکن بعد میں مہلوکین کی تعداد 39 تک پہنچ گئی۔ سول گارڈ کا کہنا ہے کہ کئی لوگ گھنٹوں ڈبوں کے اندر پھنسے رہے اور ریسکیو مہم اب بھی جاری ہے۔

Published: undefined

اس حادثہ کے بعد میڈرڈ کے اسپتالوں کو بھی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ زخمی مسافروں کو 6 مختلف اسپتالوں میں داخل کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ حادثہ کے بعد میڈرڈ اور اندلس کے درمیان چلنے والی ہائی اسپیڈ ٹرینوں کو پوری طرح سے معطل کر دیا گیا ہے۔ افسران نے بتایا کہ سیکورٹی کا خیال کرتے ہوئے اس راستے میں چل رہی سبھی ٹرینوں کو ان کے ابتدائی اسٹیشنوں پر واپس بھیج دیا گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined