
فائل تصویر، ’انسٹا گرام‘
میانمار سے نکالے گئے 22 ہزار روہنگیا مسلمانوں کے لیے سعودی عرب مسیحا بن کر سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب کے کہنے پر بنگلہ دیش نے 22 ہزار روہنگیا پناہ گزینوں کو بنگلہ دیشی پاسپورٹ جاری کیے ہیں۔ اس کی جانکاری خود بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے دی ہے۔ صلاح الدین احمد کے مطابق جو لوگ بنگلہ دیش سے قانونی طریقے سے سعودی عرب روزگار کے لیے گئے ہیں، انہیں ہم نے پاسپورٹ دیا ہے تاکہ وہ وہاں بہتر طریقے سے رہ سکیں۔
Published: undefined
دوسری جانب سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ اب بھی بنگلہ دیش سے گئے 69 ہزار روہنگیا پناہ گزیں ان کے یہاں بغیر پاسپورٹ کے مقیم ہیں۔ بنگلہ دیش میں سعودی عرب کے سفیر نے ان سب کے لیے فوری طور پر پاسپورٹ کا انتظام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب میں تقریباً ایک لاکھ روہنگیا شہری بنگلہ دیش کے ذریعے گئے تھے۔ بغیر پاسپورٹ ان سب کی نگرانی سعودی عرب کے لیے آسان نہیں ہے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ ان سب کے پاس قانونی دستاویزات ہوں تاکہ انہیں پورے ملک میں آسانی سے ٹریس کیا جا سکے اور وہ بھی بہتر طریقے سے کام کر سکیں۔
Published: undefined
سعودی عرب کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر ابھی بنگلہ دیش انہیں پاسپورٹ نہیں دیتا تو مستقبل میں انہیں واپس بھیجنا مشکل ہو سکتا ہے۔ بنگلہ دیش کسی بھی قیمت پر انہیں قبول نہیں کرے گا، جس سے سعودی عرب کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لیے سعودی عرب دباؤ ڈال کر ان سب کے پاسپورٹ بنوانا چاہتا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ سعودی عرب ’وژن 2030‘ پر کام کر رہا ہے، جس کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو ملک سے باہر نکالا جا رہا ہے۔ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ امیگریشن کے حوالے سے سخت قوانین نافذ کیے جائیں گے، ایسے میں تقریباً ایک لاکھ روہنگیا سعودی عرب کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
Published: undefined
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں پہلے ہی 10 لاکھ سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین موجود ہیں، جن کی وجہ سے خوراک کا بحران بڑھ گیا ہے۔ روہنگیا پناہ گزینوں کے باعث کئی علاقوں میں جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ ان سب کو مناسب طریقے سے سنبھال سکے، اس لیے وہ نہیں چاہتا کہ مزید پناہ گزین واپس آئیں۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش کو سعودی عرب سے سرمایہ کاری کی ضرورت بھی ہے۔ 2022 میں سعودی عرب نے بنگلہ دیش میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتی عدم استحکام کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بھی مضبوط ہیں۔
Published: undefined
2025 میں بنگلہ دیش نے سعودی عرب سے تقریباً 4 ارب ڈالر کا سامان خریدا، جبکہ باضابطہ طور پر بنگلہ دیش کے 3.5 لاکھ مزدور سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔ اگر بنگلہ دیش سعودی عرب کی بات نہ مانے تو سعودی عرب اس کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، جس سے بنگلہ دیش کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش معاشی خطرات کے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined