ایران نے ہرمز میں ڈرون فائر کیے،امریکہ نے جوابی کارروائی کی

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر سمندری تصادم کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر آبنائے ہرمز کے قریب اشتعال انگیز کارروائیوں کا الزام لگایا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ تعطل کا شکار ہے۔ ادھر آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں۔ تازہ ترین تنازع کے حوالے سے دونوں ممالک اپنے اپنے دعوے کر رہے ہیں۔ ایران کی نیم سرکاری مہر نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ایران نے ہرمز کے قریب متعدد "انتباہی" گولیاں چلائیں۔نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکی بحری جہازوں کی مشاہدہ شدہ نقل و حرکت کے جواب میں تھا۔ ایران نے مزید کہا ہے کہ ایرانی فائرنگ کا ہدف سمندر میں تھا، جو اسٹریٹجک ایرانی بندرگاہی شہر بندر عباس کے ساحل سے دور ایک چھوٹا جزیرہ تھا۔

ادھر ایک امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کی جانب کئی ڈرون فائر کیے تھے جو تباہ ہو گئے تھے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا، "امریکی فوج نے آج چار ایرانی حملہ آور ڈرون مار گرانے کے بعد ایران میں ساحلی نگرانی کے ریڈار سائٹس پر حملہ کیا۔" اس میں مزید کہا گیا ہے، "حملہ آور ڈرونز نے علاقائی سمندری ٹریفک کے لیے خطرہ بنا دیا ہے۔ مزید حملوں کو روکنے کے لیے، امریکی فوج نے ایرانی ساحلی نگرانی کے ریڈار سائٹس پر حملہ کیا"۔


امریکی فوج نے مزید کہا کہ وہ اپنے دفاع میں ایرانی جارحیت کا جواب دینا جاری رکھے گی۔ ایرانی میڈیا نے بندر عباس میں حملے کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔اس تازہ پیش رفت سے کچھ عرصہ قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے پاس اب صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی ہیں۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے بات چیت ہوئی تھی۔ لیکن اس طرح کے حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ اس ہفتے کے شروع میں، ایرانی ڈرونز نے کویت کے مرکزی ہوائی اڈے پر ایک مسافر ٹرمینل کو خاصا نقصان پہنچایا، جس سے ایک شخص ہلاک، درجنوں زخمی ہوئے، اور مختصر طور پر ہوائی اڈے کو بند کر دیا گیا۔


اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالات بھی کشیدہ ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ لبنانی حکومت اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے لیکن ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ دہشت گرد گروپ نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا ہے اور دونوں فریقوں نے نئے حملے شروع کر دیے ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔