دیگر ممالک

روس نے یوکرین پر خطرناک گلائیڈ بم سے کیا حملہ، کم از کم 15 افراد جاں بحق

یوکرین کے صدر وولودمیر زیلنسکی اور ہنگامی خدمات کے محکمے نے بتایا ہے کہ روس نے یوکرین کے شہر زاپوریژیا پر 5 گلائیڈ بموں سے حملہ کیا، جس میں 3 بچوں سمیت کم از کم 15 لوگوں کی موت ہو گئی۔

<div class="paragraphs"><p>روس کی جانب سے یوکرین پر فضائی حملے</p></div>

روس کی جانب سے یوکرین پر فضائی حملے

 

کشیدہ حالات کے درمیان روس نے یوکرین پر خوفناک حملہ کر دیا ہے۔ اس حملہ میں کم از کم 15 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے یہ حملہ یوکرین کے زاپوریژیا علاقے میں کیا ہے۔ یہ حملہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی ڈیزل خریدنے کے معاہدے کا اعلان کیے جانے کے ایک دن بعد ہوا۔ یوکرین نے خبردار کیا تھا کہ اس سے یوکرین میں ماسکو کی جنگ کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ میخائیلو سیمیکن نے ہفتہ کے روز بتایا کہ زاپوریژیا میں رہائشی عمارتوں پر روسی فضائی بم گرنے سے ہلاک ہونے والوں میں 3 بچے بھی شامل تھے۔ علاقے کی دفاعی کونسل کے شریک سربراہ ایوان فیڈوروف کے مطابق حملے میں کم از کم 16 لوگ زخمی ہوئے۔ صدر وولودمیر زیلنسکی اور ہنگامی خدمات کے محکمے نے بھی بتایا ہے کہ روس نے یوکرین کے شہر زاپوریژیا پر 5 گلائیڈ بموں سے حملہ کیا، جس میں 3 بچوں سمیت کم از کم 15 لوگوں کی موت ہو گئی۔ یہ گلائیڈ بم جنوب مشرقی شہر کی رہائشی عمارتوں پر گرے۔

ہفتہ کی صبح ہونے والے اس حملہ کے بعد کئی لوگ لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ وہ منہدم عمارتوں کے ملبوں کے نیچے دبے ہو سکتے ہیں۔ جس طرح کا حملہ ہوا ہے، اس سے اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ زخمیوں کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہے۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ رات بھر میں 13 دیگر علاقوں پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے ذریعے فضائی جنگ جاری ہے، جبکہ محاذ پر دونوں فوجیں تقریباً تعطل کی صورت حال میں ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ شروع ہوئے 5 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یوکرین روس کی بڑھتی ہوئی بمباری کا مقابلہ کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ گزشتہ 4 دنوں میں ان حملوں میں 60 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ تازہ حملے اس واقعہ کے ایک دن بعد ہوئے، جب ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے روس سے ڈیزل خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ یوکرین کے ساتھ جنگ کے معاملے پر ماسکو پر برسوں سے جاری امریکی دباؤ کے بالکل برعکس ہے۔ اس معاہدے کو امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کی ایک کوشش بھی قرار دیا جارہا ہے۔

ٹرمپ نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پر کہا کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران یہ معاہدہ کیا۔ اس بات چیت میں روس میں طاعون کے ایک مشتبہ معاملے پر گفتگو ہونے کی توقع تھی۔ اس کے بجائے ٹرمپ نے اعلان کیا کہ روس فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل فراہم کرے گا۔ اس کے بعد نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن اور ’اس کے فوراً بعد‘ 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے لکھا کہ اس کے بعد روس ’مختصر مدت میں‘ مزید 30 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا۔

ٹرمپ کا یہ حیران کن اعلان ان کے سابقہ اعلانات سے بالکل مختلف ہے۔ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کئی بار ہندوستان پر بھی روس کی جنگ کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں، کیونکہ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روس سے خام تیل خریدتا ہے۔ اس معاہدے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے آن لائن ایک طویل پوسٹ میں کہا کہ روس اس کا جواب ’’مزید دہشت اور دھوکے‘‘ سے دے گا۔ انہوں نے اس معاہدے کو جنگ میں ایسی سرمایہ کاری قرار دیا، جس سے جنگ کو مزید طول دینے میں مدد ملے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔