
فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکی جنگ کے وزیر پیٹ ہیگستھ نے کہا، "سابق فوجی میجر ندال حسن کو ٹیکساس کے اسی فوجی اڈے پر سرعام پھانسی دی جائے گی جہاں اس نے حملہ کیا تھا۔ اس نے 2009 میں فورٹ ہڈ شوٹنگ میں 13 افراد کو ہلاک کیا تھا۔‘‘
جمعرات کو بات کرتے ہوئے، ہیگستھ نے کہا کہ پھانسی کو عوام کے دیکھنے کے لیے دستیاب کرایا جائے گا کیونکہ عوام کو ایسے جرائم کے نتائج کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہیگستھ نے کہا، "ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ عوام پھانسی کو دیکھ سکےکیونکہ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایسی چیزوں کے سنگین نتائج نکلتے ہیں۔"
ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ پھانسی فورٹ ہڈ میں ہونی چاہیے کیونکہ ندال حسن نے وہاں مہلک شوٹنگ کی تھی۔ اس نے بتایا کہ رائفلوں سے لیس سپاہی ایک فائرنگ اسکواڈ بنائیں گے اور اشارہ دیا کہ پھانسی حملے کے عین وقت پر یعنی دوپہر 1 بجے ہوگی۔ ہیگستھ نے کہا، "ایک آرمی میجر نے اپنے ملک سے غداری کی، ایک بنیاد پرست اسلام پسند نے فورٹ ہڈ میں متعدد امریکیوں کو قتل کیا۔ ظاہر ہے، ہم فورٹ ہڈ میں کر رہے ہیں۔"
امریکی فوج نے 3 دسمبر 2026 کو دوپہر 1 بجے پھانسی کا وقت مقرر کیا ہے۔ فوج کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہیگستھ کی سفارش پر 2 اکتوبر کو سزائے موت کی منظوری دی تھی۔ ندال حسن کا یہ حملہ امریکی فوجی اڈے پر بڑے پیمانے پر فائرنگ کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک تھا۔ اس کے بعد اسے 2013 میں موت کی سزا سنائی گئی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔