امریکہ-ایران مذاکرات، قومی آواز گرافکس
امریکہ نے پیر کے روز ایک بار پھر ایران پر حملہ کر دیا۔ یہ ایران کے خلاف امریکہ کے ذریعہ مسلسل تیسری رات کیا گیا حملہ ہے۔ ان حملوں میں ایران کے ساحلی نگرانی نظام، ڈرون کے بنیادی ڈھانچوں اور میزائلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں ’یو ایس سینٹرل کمانڈ‘ (سینٹ کام) نے کہا کہ یہ تازہ آپریشن صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حکم پر شروع کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں مسافر و کمرشیل جہازوں کے لیے خطرہ پیدا کرنے والے ایران کی طاقت کو کم کرنا تھا۔ سینٹ کام نے کہا ہے کہ اس نے کمانڈر ان چیف کے حکم پر ایران کے خلاف مسلسل تیسری رات بھی حملے کیے۔ یہ حملے ایرانی فوج کو کافی نقصان پہنچاتے رہیں گے اور آبنائے ہرمز میں بے گناہ شہریوں اور کمرشیل شپنگ پر حملہ کرنے کی ایرانی صلاحیت کو بھی کم کریں گے۔
ہفتہ کے آخر میں ہوئی فوجی جھڑپوں کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے ماحول میں یہ تازہ حملے ہوئے ہیں۔ آج ایران کے جنوبی حصوں میں کئی دھماکے کی خبریں آئی ہیں۔ یہ دھماکے تب ہوئے جب سینٹ کام نے ملک پر حملوں کے نئے دور کا اعلان کیا تھا۔ ابتدائی خبروں میں بندرعباس شہر اور کیش جزیرہ پر دھماکے کی بات کہی گئی۔ بعد میں ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے بتایا کہ صوبہ بوشہر کے شہر جام اور قشم جزیرہ پر بھی دھماکے کی آوازیں سنی گئیں۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں پیر کی رات یو اے ای کے 2 تیل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی کروز میزائل حملے میں ایک ہندوستانی ملاح کی موت ہو گئی، جبکہ 8 افراد زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ زخمیوں میں چار کی حالت انتہائی نازک ہے۔ یو اے ای کی وزارت دفاع نے اس حملے کی تصدیق کی ہے۔ وزارت دفاع نے ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں بتایا کہ عمان کی سمندری سرحد کے اندر، آبنائے ہرمز کے جنوبی شپنگ لین سے گزرنے کے وقت ’ممباسا‘ اور ’البحیہ‘ نام کے ٹینکروں کو ایران کی 2 کروز میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ وزارت نے تصدیق کی ہے کہ اس حملے میں ’ممباسا‘ ٹینکر پر سوار ایک جہاز عملے کے ایک ہندوستانی رکن کی موت ہو گئی ہے، اور 8 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ ان میں 6 ہندوستانی اور 2 یوکرینی شہری ہیں۔ آگ لگنے کی وجہ سے دونوں جہازوں کو نقصان پہنچا ہے۔ لیکن آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
یو اے ای کی وزارت خارجہ (ایم او ایف اے) نے آبنائے ہرمز میں عمان کی سرحد کے اندر سمندر میں 2 کروز میزائلوں سے تیل ٹینکروں پر ایرانی حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ نے حکومت ہند اور وہاں کے لوگوں کے تئیں اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ وزارت نے زور دے کر کہا کہ یہ حملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی صریح خلاف ورزی ہے اور تمام دشمنانہ سرگرمیوں کو فوری طور پر بند کرنے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یو اے ای نے کہا ہے کہ علاقائی سیکورٹی کی حفاظت کرنے، عالمی معیشت اور تجارت کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ایران کو حملے بند کرنے چاہئیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ سبھی قسم کی دشمنی کو ختم کرنے کے لیے پابند ہونا ہوگا، اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے پوری طرح کھولنا ہوگا۔
یہ حملہ اس وقت کیا گیا ہے جب اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ اس کے جواب میں امریکہ نے ایران میں تقریباً 140 مقامات پر جوابی حملے کیے۔ ساتھ ہی امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ آج شام سے ایرانی بندرگاہوں پر آنے جانے والے سمندری میری ٹائم ٹریفک کی بندش دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی خاص طور پر ایران کو نشانہ بنائے گی۔ جبکہ دیگر ممالک کے جہازوں کو اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں سے نکلنے کی اجازت ہوگی۔ ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ناکہ بندی صرف ایران کے ساتھ تجارت کرنے والوں پر نافذ ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔