ہند نژاد خلائی مسافر انل مینن آج بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے بھریں گے پرواز، کئی تجربات کو دیں گے انجام
انل مینن نے 2014 میں ناسا میں فلائٹ سرجن کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے خلائی اسٹیشن پر رہنے اور کام کرنے والے خلائی مسافروں کے ساتھ کام کیا۔

امریکی خلائی ایجنسی ’ناسا‘ کے ہند نژاد خلائی مسافر انل مینن منگل کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کے لیے روانہ ہونے والے ہیں۔ وہ قزاقستان کے بائیکونور خلائی مرکز سے 2 روسی خلائی مسافروں کے ساتھ 8 ماہ کے مشن پر جائیں گے۔ اس دوران وہ کئی تجربات کو انجام دیں گے، جو آئندہ نسل کے لیے کارآمد ثابت ہونے والے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کا روسکوسموس سویوز ایم ایس-29 خلائی جہاز منگل کی شب ہندوستانی وقت کے مطابق 8.17 بجے بائیکونور خلائی مرکز سے پرواز کرے گا۔ پرواز کے تقریباً 3 گھنٹے بعد خلائی جہاز کے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے منسلک ہونے کی توقع ہے۔ انل مینن کے ساتھ روسی خلائی مسافر پیوتر دوبروف اور انا کیکینا بھی آئی ایس ایس کے 75ویں مہم کا حصہ ہوں گے۔ سویوز خلائی جہاز منگل کی شب 11.56 بجے خلائی اسٹیشن سے جڑ جائے گا۔ اس کے بعد تینوں خلائی مسافر بدھ کی علی الصبح تقریباً 1.25 بجے آئی ایس ایس میں داخل ہوں گے۔
خلائی اسٹیشن پہنچنے کے بعد مینن اور ان کے ساتھی ناسا سے منسلک خلائی مسافر جیسیکا میر، جیک ہیتھوے اور کرس ولیمز، یورپی خلائی ایجنسی سے منسلک خلائی مسافر سوفی ایڈینوٹ، اور روسکوسموس خلائی ایجنسی سے منسلک خلائی مسافر سرگئی کود-سویئرچکوف، سرگئی میکائیف اور آندرے فیدیائیف کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔
آئی ایس ایس پر مینن طویل عرصے تک خلا میں رہنے سے انسانی جسم پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ کریں گے۔ وہ یہ بھی پتہ کریں گے کہ کم کشش ثقل کی حالت میں خلائی مسافروں کے خون کے بہاؤ، شریانوں کی ساخت اور خون کی ترکیب پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وہ خلائی اسٹیشن کے پینے کے پانی سے شریانوں میں چڑھائے جانے والے طبی مائعات (آئی وی فلوئیڈ) تیار کرنے کی ٹیکنالوجی کے تجربات میں بھی مدد کریں گے۔ مستقبل کے گہرے خلائی مشنوں میں، جہاں طبی سامان محدود ہوگا، یہ ٹیکنالوجی انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں مینن خلا میں سیمی کنڈکٹر کرسٹل تیار کرنے کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے پر بھی تحقیق کریں گے۔ اس سے مستقبل میں اعلیٰ صلاحیت والے کمپیوٹرز، مصنوعی ذہانت اور بہتر طبی آلات کے لیے درکار پرزوں کی بڑے پیمانے پر تیاری ممکن ہو سکے گی۔ وہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے الٹراساؤنڈ معائنہ بھی کریں گے۔ اس سے مستقبل کے خلائی مشنوں میں زمین سے طبی امداد کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ انل مینن کی پیدائش امریکہ کے شہر منیاپولس میں ہوئی تھی۔ ان کے والدین یوکرین اور ہندوستان سے امریکہ جا کر آباد ہوئے تھے۔ مینن ایمرجنسی میڈیسن کے ماہر ہیں اور امریکی خلائی فورس میں کرنل کے عہدے پر فائز ہیں۔ امریکی فضائیہ میں خدمات کے دوران انہوں نے افغانستان میں ’آپریشن اینڈیورنگ فریڈم‘ کے دوران اگلے محاذ پر خدمات انجام دی تھیں۔ انہوں نے ہمالین ریسکیو ایسو سی ایشن کے ساتھ بھی کام کیا، جہاں انہوں نے ماؤنٹ ایوریسٹ پر چڑھنے والے کوہ پیماؤں کا علاج کیا۔ 49 سالہ مینن نے ہندوستان میں بھی ایک سال گزارا ہے۔ وہ روٹری ایمبیسیڈوریل اسکالر کے طور پر ہندوستان آئے تھے، جہاں انہوں نے پولیو ویکسینیشن مہم کا مطالعہ کیا اور اس کی حمایت کی۔
انل مینن نے 2014 میں ناسا میں فلائٹ سرجن کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے خلائی اسٹیشن پر رہنے اور کام کرنے والے خلائی مسافروں کے ساتھ کام کیا۔ 2018 میں وہ اسپیس ایکس سے وابستہ ہوئے۔ وہاں انہوں نے کمپنی کا طبی پروگرام شروع کیا، پہلی انسانی خلائی پروازوں کی تیاری میں مدد کی اور چاند، مریخ اور اس سے آگے کے مشنوں کے لیے تیار کیے جا رہے اسٹارشپ راکٹ اور خلائی جہاز کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ دسمبر 2021 میں ان کا انتخاب ناسا کے خلائی مسافر کے طور پر ہوا، جس کے بعد انہوں نے 2 سالہ تربیتی پروگرام میں حصہ لیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ انل مینن کی اہلیہ انا ولہیم بھی خلائی مسافر ہیں۔ انہوں نے ستمبر 2024 میں اسپیس ایکس کے پرائیویٹ انسانی خلائی مشن پولارس ڈان کے تحت خلا کا سفر کیا تھا۔ یہ مشن تقریباً 5 دن تک جاری رہا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
