بنگلہ دیش: سیلاب سے زبردست تباہی، روہنگیا پناہ گزیں کیمپ میں لینڈسلائیڈ، 54 کی موت، 10 لاکھ سے زائد لوگ پھنسے

بنگلہ دیش کی وزارت برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے 13 جولائی کو جنوب-مشرقی خطہ میں لگاتار آ رہے سیلاب اور تباہناک لینڈسلائیڈ کے سبب کم از کم 54 لوگوں کی موت ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>بنگلہ دیش میں سیلاب میں پھنسا ایک شخص، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی حصہ میں آنے والے تباہناک سیلاب اور لینڈسلائیڈ کے باعث کم از کم 54 افراد دردناک طور پر جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قدرتی آفت سے ساحلی ضلع کاکس بازار سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں گزشتہ ہفتہ روہنگیا پناہ گزیں کیمپوں میں لینڈسلائیڈ کے باعث بچوں سمیت کئی افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بنگلہ دیش کی وزارت برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے 13 جولائی کو جنوب مشرقی خطہ میں مسلسل ہونے والے شدید سیلاب اور تباہناک لینڈسلائیڈ کے باعث کم از کم 54 افراد کی ہلاکت کی سرکاری طور پر تصدیق کی ہے۔ اس قدرتی آفت نے پورے علاقے میں معمولات زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے اور کئی برادریوں کا رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا ہے۔


وزارت نے بتایا کہ سیلاب سے کئی علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، لیکن ساحلی ضلع کاکس بازار سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں گزشتہ ہفتہ موسلا دھار بارش کے بعد ہونے والی لینڈسلائیڈ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ روہنگیا پناہ گزیں کیمپوں میں مٹی دھنسنے کے باعث بچوں سمیت کئی افراد ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ متعدد دیہات میں اب بھی کمر تک پانی بھرا ہوا ہے۔ بعض نشیبی علاقوں میں تو سیلاب کا پانی اس قدر بڑھ گیا ہے کہ وہ لوگوں کے ٹین سے بنے گھروں کی چھتوں سے بھی اوپر پہنچ گیا ہے، جس کے باعث لوگ محفوظ مقامات کی تلاش میں دربدر بھٹک رہے ہیں۔ وزارت ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق اس ہولناک سیلاب کے باعث 10 لاکھ سے زائد افراد مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔ سیلاب متاثرین نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے شکایت کی ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی امدادی سہولتیں انتہائی سست رفتاری سے پہنچ رہی ہیں اور ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بالکل ناکافی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔