
ٹرمپ اور جنپنگ
ڈونالڈ ٹرمپ کے چین دورے کے درمیان امریکی میڈیا نے ایک حیرت انگیز خبر شائع کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی افسران کو چین میں جاسوسی کا خوف ستا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی وفد کے اراکین اپنے فون اور لیپ ٹاپ چھوڑ کر چین گئے ہیں۔ ان کے پاس جو فون اور لیپ ٹاپ ہیں، وہ عارضی ہیں۔ امریکی وفد کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ ہر جگہ یو ایس بی کا استعمال نہ کریں۔
Published: undefined
امریکی وفد کو بالکل نئے اور خالی فون-لیپ ٹاپ دیے گئے ہیں۔ ان میں کوئی پرانا ڈیٹا یا ذاتی معلومات نہیں ہے۔ ان ڈیوائس کا استعمال صرف چین دورے کے دوران ضروری بات چیت کے لیے ہوگا۔ دورے کے بعد ان تمام فون اور لیپٹ ٹاپ کو تباہ کر دیا جائے گا یا مکمل طور پر فارمیٹ کر دیا جائے گا تاکہ کوئی وائرس امریکی نیٹورک میں نہ آ سکے۔
Published: undefined
چینی دورے پر گئے امریکی افسران کے احتیاط کا واضح مطلب یہ ہے کہ امریکی حکومت نے پہلے ہی مان لیا تھا کہ چین میں ان کے ہر ڈیجیٹل ڈیوائس پر نظر رکھی جائے گی، اس لیے انہوں نے فون اور لیپ ٹاپ چھوڑ کر چین جانے کا فیصلہ کیا۔ جو فون اور لیٹ ٹاپ ان کے ساتھ ہیں، وہ صرف وہیں تک استعمال کے لیے ہیں۔ بعد میں اسے فارمیٹ کر دیا جائے گا یا اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ 2017 کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ پہلی بار چین کے دورے پر گئے ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں میں کسی بھی موجودہ امریکی صدر کا یہ پہلا چین دورہ ہے۔ جمعرات کو بیجنگ میں ٹرمپ اور شی جنپنگ کے درمیان دوطرفہ میٹنگ ہوئی۔ اس سے قبل ٹرمپ کا شاندار استقبال کیا گیا۔ جنپنگ کی موجودگی میں انہیں گارڈ آف آرنر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینا، اور اس کے متعلق جاری تنازعات کو پرامن رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ ایران جنگ اور تائیوان کو امریکہ کے ذریعہ ہتھیار فروخت کیے جانے جیسے سنگین مسائل پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر سوشل میڈیا