مدارس کی تفصیلی جانچ کے بعد اترا کھنڈ حکومت کا ایک اور فیصلہ، اب مدرسوں کو رجسٹریشن کے لیے دینی ہوگی فیس
مدارس کو اب مقررہ عمل کے تحت درخواست دینی ہوگی۔ رجسٹریشن کے لیے فیس جمع کرنے کے ساتھ انہیں اپنی سرگرمیوں، اساتذہ کی معلومات، طلبا کی تعداد اور بنیادی سہولیات سے متعلق پوری معلومات حکومت کو دینی ہوگی۔

اتراکھنڈ کے مدارس میں چلنے والی سرگرمیوں کی تفصیلی جانچ کا حکم دینے کے بعد ریاستی حکومت نے مدارس کے سلسلے میں ایک اور سخت فیصلہ لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی صدرات میں منعقد کابینہ میٹنگ میں مدارس کی منظوری اور رجسٹریشن سے متعلق نئے دستورالعمل کو منظوری دی گئی ہے۔ اس نئے نظام کے تحت اب ریاست کے سبھی مدارس کو سرکاری منظوری حاصل کرنے اور رجسٹریشن کرانے کے لیے مقررہ فیس جمع کرنا لازمی ہوگا۔
کہا جارہا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کا مقصد ریاست میں چل رہے مدارس کے طریقہ کار کو شفاف اور منظم بنانا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے کہا جارہا تھا کہ طویل عرصہ سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کئی مدرسے بغیر واضح رجسٹریشن اور نگرانی کے چل رہے تھے۔ ایسے حالات میں حکومت نے ان اداروں کو ایک ریگولیٹری فریم ورک میں لانے کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
نئے دستورالعمل کے مطابق مدارس کو اب مقررہ عمل کے تحت درخواست کرنا ہوگی۔ رجسٹریشن کے لیے فیس جمع کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی تعلیمی سرگرمیوں، اساتذہ کی معلومات، طلبا کی تعداد اور بنیادی سہولیات سے متعلق پوری معلومات حکومت کو دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ ادارے کم از کم ضروری معیارات پورے کررہے ہیں یا نہیں۔
اس سلسلے میں ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ بغیر رجسٹریشن چلنے والا کوئی بھی مدرسہ غیر قانونی مانا جائے گا۔ اگر کوئی ادارہ قوانین پر عمل نہیں کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں منظوری منسوخ کرنا یا ادارے کو بند کرانے جیسے اقدامات بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ نظام ریاست میں تعلیمی اداروں کے لیے یکساں اور شفاف نظام نافذ کرنے کی سمت میں اہم قدم مانا جارہا ہے۔
حالانکہ حکومت کے اس فیصلے کے بعد مختلف حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔ جہاں ایک طرف حکومت اسے تعلیمی اصلاح اور شفافیت کی سمت میں ضروری قدم بتا رہی ہے وہیں کچھ لوگ اسے اقلیتی طبقے کے تعلیمی اداروں پر اضافی بوجھ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ خاص طور پر چھوٹے مدارس کے لیے فیس اور قوانین کی تعمیل کرنا چیلنجنگ ہوسکتا ہے۔ اس کے باوجود حکومت کا ماننا ہے کہ اس نئے نظام سے مدارس میں تعلیم کی سطح میں بہتری ہوگی اور طلبا کو بہتر مواقع ملیں گے۔ اس کے ساتھ ہی یہ یقینی ہوگا کہ سبھی ادارے مقررہ معیارات کے تحت چلائے جائیں اور کسی بھی طرح کی بے ضابطگی پر روک لگائی جا سکے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے حکومت کی جانب سے ضلع مجسٹریٹوں کو حکم جاری کرکے ریاست میں چل رہے سبھی مدرسوں کی تفصیلی جانچ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جانچ میں مدرسوں کی روز مرہ کی سرگرمیوں، طلبا کی حاضری، مختلف فلاحی اسکیموں کا فائدہ، مالی ذرائع کی صورتحال سمیت دیگر نکات کو شامل کیا جائے گا۔ حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی مدرسے میں بے ضابطگی کی بات سامنے آئی تو اس کے خلاف کاروالی عمل میں لائی جائے گی۔ بتادیں کہ ریاست میں اس وقت 452 مدارس ہیں۔ ان میں پہلی کلاس سے 8 ویں تک کے 400 اور 9 ویں سے 12 ویں تک کے 525 مدرسے ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
