
کم جونگ اُن کی فائل تصویر، آئی اے این ایس
شمالی کوریا کے تاناشاہ کم جونگ اُن نے اپنی بیٹی کم جو اے کو جانشیں کی شکل میں منتخب کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نیشنل انٹلیجنس سروس (این آئی ایس) نے آج پارلیمنٹ کے اراکین وک بند کمرے میں بریفنگ دیتے ہوئے یہ جانکاری دی۔ این آئی ایس نے کہا کہ کم جو اے اب ’جانشیں تقرری کے مرحلہ‘ میں پہنچ چکی ہیں۔ حالانکہ قبل میں این آئی ایس انھیں ’جانشیں تربیت‘ کے مرحلہ میں بتا رہی تھی، لیکن اب اس اندازہ کو بدلا گیا ہے۔ یعنی شمالی کوریا میں کم فیملی کی چوتھی نسل تک اقتدار کی رسائی پہنچانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ کم جو اے کے بارے میں فی الحال بہت کم جانکاری پبلک ڈومین میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی عمر تقریباً 13 سال ہے اور وہ 2013 میں پیدا ہوئی تھیں۔ نومبر 2022 میں پہلی بار انھیں دیکھا گیا تھا، جب ایک طویل دوری کا میزائل ٹیسٹ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ اپنے والد کے ساتھ کئی اہم تقاریب میں شرکت کرتی ہوئی دیکھی گئیں۔ اسلحہ تربیت، فوجی پریڈ، فیکٹری افتتاح اور حال ہی میں کوریائی پیپلز آرمی کے یومِ تاسیس پر بھی وہ نظر آئیں۔
Published: undefined
جنوری 2026 میں انھوں نے کم سوسن سن پیلس (کم فیملی کا علامتی مقبرہ) کا دورہ کیا، جو جانشینی کے لیے اہم اشارہ مانا جاتا ہے۔ ستمبر 2025 میں وہ والد کے ساتھ بیجنگ گئیں، جو ان کا پہلا غیر ملکی سفر تھا۔ وہاں وہ چینی لیڈر شی جن پنگ سے ملیں اور شمالی کوریائی سفارت خانہ میں منعقد تقاریب میں شامل ہوئیں۔ این آئی ایس کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ کم جو اے اب پالیسی سے متعلق معاملوں پر رائے دے رہی ہیں اور انھیں دوسرے سب سے اونچے عہدہ کے لائق مانا جا رہا ہے۔
Published: undefined
این آئی ایس نے یہ اندازہ کئی بنیادوں پر لگایا ہے۔ ان میں کم جو کی بڑھتی عوامی موجودگی، فوجی تقاریب میں شرکت، کم سوسن پیلیس دورہ اور کچھ پالیسیوں پر ان کی رائے شامل ہیں۔ این آئی ایس اب باریکی سے دیکھ رہی ہے کہ کیا کم جو آئندہ ورکرس پارٹی کانگریس میں والد کے ساتھ نظر آتی ہیں، وہاں انھیں کوئی آفیشیل عہدہ ملتا ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو جانشینی کی قیاس آرائیاں مزید مضبوط ہوں گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined