
بھالو، تصویر اے آئی
جاپان میں بھالوؤں کے ذریعہ پریشان کیے جانے کی وجہ سے سانا تکائیچی حکومت نے علیحدہ وزارت تشکیل دینے کا فیصلہ لیا ہے۔ اس وزارت کے سربراہ کو کابینہ کا درجہ دیا جائے گا۔ وزارت کا کام بھالوؤں کے حملے سے عوام کو محفوظ رکھنا ہوگا۔ اس تعلق سے وزارت کے ذریعہ آنے والے دنوں میں ایک روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ جمعرات کے روز کابینہ میں تبدیلی کے دوران لیا گیا۔ بلومبرگ کے مطابق جاپان بھالوؤں کے حملے سے کافی پریشان ہے۔ اس حوالے سے عوام کی مسلسل شکایات آ رہی ہیں۔ جس کے پیش نظر جاپان حکومت نے اس کے کنٹرول کے لیے علیحدہ وزارت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
جاپان حکومت نے کابینہ میں رد و بدل کے دوران حکمراں جماعت کے رکن پارلیمنٹ ہیرو یوشی ساساگاوا کو بھالوؤں سے نمٹنے کے امور کے محکمے کا نیا وزیر مقرر کیا ہے۔ انہیں ماحولیات کی وزارت کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہنگامی جوہری امور کے محکمے کا کام کاج بھی دیکھیں گے۔ نئی کابینہ میں ردوبدل کے دوران وزیر خزانہ، وزیر دفاع، وزیر تجارت اور وزیر خارجہ کے کام کاج میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ تکائچی کا کہنا ہے کہ یہ کابینہ کی ازسرنو تشکیل ہے۔ اس میں کچھ نئے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جاپان نے اس سال اب تک 50 ہزار سے زیادہ بھالو دیکھے ہیں، اور تقریباً 250 جاپانی شہری بھالوؤں کے حملے میں زخمی بھی ہوئے ہیں، جبکہ 13 افراد کی موت بھی ہوچکی ہے۔ 2025 میں بھالوؤں کے حملے کی وجہ سے 3 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ جاپان حکومت کا ماننا ہے کہ بھالوؤں کے اضافے کی 2 وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ جاپان کے عمر رسیدہ کسان مسلسل زراعت چھوڑ رہے ہیں، جس کے سبب کھیتوں کو بھالوؤں نے اپنا ٹھکانہ بنا لیا ہے۔ جاپان کی حکومت کی وزارت زراعت کے مطابق 2005 میں 22.41 لاکھ افراد پورے ملک میں کھیتی باڑی کرتے تھے۔ 2020 میں یہ تعداد گھٹ کر 13 لاکھ رہ گئی ہے۔ دوسری وجہ جاپان میں شکاریوں کی کمی ہے، جو بھالوؤں کو ختم نہیں کر پا رہے ہیں اور نہ ہی بھگا پا رہے ہیں۔ ’فارن کوریسپونڈنٹ کلب آف جاپان‘ کے مطابق 1975 میں جاپان میں 5 لاکھ سے زیادہ لائسنس یافتہ شکاری تھے۔ 2020 میں ان کی تعداد گھٹ کر 2 لاکھ 18 ہزار رہ گئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔