گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا سے غائب ہو گئی 12 لاکھ کروڑ ٹن برف، دنیا کو بڑا خطرہ لاحق!
تحقیق بتاتی ہے کہ برف کی چادریں اب سمندر کی سطح میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہیں۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں مزید نقصان ہو سکتا ہے۔
سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق نے چونکانے والے اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ 1979 سے لے کر 2023 تک گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا کی برف کی چادروں سے مجموعی طور پر تقریباً 12.5 ٹریلین ٹن یعنی 12 لاکھ کروڑ ٹن برف کم ہو گئی ہے۔ یہ اتنی برف ہے کہ اگر اسے امریکہ کے پورے براعظم پر پھیلا دیا جائے تو 5 فیٹ موٹی تہہ بن جائے گی۔ اس نقصان کے باعث عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں 3.1 سینٹی میٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ تحقیق ’سائنٹفک ڈیٹا‘ جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کی مصنفہ انیس اوتوساکا کے مطابق یہ اعداد و شمار 27 سیٹلائٹ مشینوں کے ڈیٹا سے سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ پہلے سائنسداں 1990 کی دہائی سے ہی ڈیٹا دیکھتے تھے۔ اب ناسا اور یورپی اسپیس ایجنسی کے پرانے سیٹلائٹس کے اعداد و شمار کو شامل کر کے ریکارڈ 1970 کی دہائی تک بڑھایا گیا ہے۔ گرین لینڈ کے لیے 1972 اور انٹارکٹیکا کے لیے 1979 سے اعداد و شمار دستیاب ہیں۔ اس سے نصف صدی کے دوران ہونے والی تبدیلی واضح طور پر سامنے آتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ 84 فیصد برف کا نقصان سطح پر گرم ہوا سے پگھلنے کے باعث نہیں بلکہ نیچے اور کناروں سے گرم سمندری پانی کے کٹاؤ کی وجہ سے ہوا ہے۔ گلیشیئر تیزی سے بہہ کر سمندر میں گر رہے ہیں۔ صرف 16 فیصد نقصان سطح کے پگھلنے کی وجہ سے ہوا ہے۔
شریک مصنف اینڈریو شیفرڈ نے خبردار کیا کہ یہ سمندر کی سطح میں اضافے کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ اس کے باعث مزید 60 سے 90 لاکھ افراد ساحلی سیلاب کے خطرے میں آ گئے ہیں۔ تقریباً 60 فیصد نقصان گرین لینڈ اور 40 فیصد انٹارکٹیکا سے ہوا ہے۔ گرین لینڈ چھوٹا ہونے کے باوجود زیادہ برف کھو رہا ہے۔ 1980 کی دہائی میں گرین لیڈ سالانہ تقریباً 60 ارب ٹن برف کھوتا تھا۔ 2010 کی دہائی میں یہ بڑھ کر 264 ارب ٹن ہو گیا۔ انٹارکٹیکا میں بھی نقصان 4 گنا تیز ہو گیا۔ جیکبشون گلیشیئر جیسے مقامات پر برف اب روزانہ 50 میٹر تک پیچھے ہٹ رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ پگھلی ہوئی برف کے باعث سمندر کی سطح میں 3.1 سینٹی میٹر کا اضافہ معمولی لگ سکتا ہے، لیکن ہر 1 سینٹی میٹر اضافے کے ساتھ 20 سے 30 لاکھ افراد سال میں کم از کم ایک بار سیلاب کا سامنا کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ پگھلی ہوئی برف تقریباً 3 ’کوآڈریلین گیلن‘ پانی میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ساحلی شہروں، جزیروں اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ برف میں ہونے والی تبدیلیاں گلوبل وارمنگ سے کچھ دہائیاں پیچھے چل رہی ہیں۔ اس لیے اگرچہ گلوبل وارمنگ رک بھی جائے، برف کا نقصان کچھ عرصے تک جاری رہے گا۔ یہ سیٹلائٹ پر مبنی اب تک کا سب سے طویل ریکارڈ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ 1990 کی دہائی سے برف کا نقصان تیز ہوا ہے۔ گرم سمندر گلیشیئرز کو نیچے سے کاٹ رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ تیزی سے بہنے لگے ہیں۔ اسے ڈائنامک عدم توازن کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ہمالیہ کی وارننگ: پگھلتی برف، آلودہ جھیلیں... پنکج چترویدی
تحقیق بتاتی ہے کہ برف کی چادریں اب سمندر کی سطح میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہیں۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں مزید نقصان ہو سکتا ہے۔ ساحلی علاقوں کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر کوششیں ضروری ہیں۔ سیٹلائٹس کے ذریعہ مسلسل نگرانی سے ہم ان تبدیلیوں کو سمجھ سکتے ہیں اور مستقبل کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔ قطبی علاقوں میں برف کا پگھلنا صرف مقامی مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک چیلنج ہے۔
