
جنگ کی علامتی تصویر
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ ہولناک صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 28 فروری کے بعد سے اب تک اسرائیلی و امریکی حملوں میں 600 سے زائد ایرانی اسکول تباہ ہو چکے ہیں۔ یہ دعویٰ ایران کے ذریعہ کیا گیا ہے، جو ملک میں تعلیمی نظام کے متاثر ہونے کا گواہ ہے۔
Published: undefined
ایران کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں اب تک 600 سے زائد اسکول اور تعلیمی ادارے متاثر ہوئے ہیں۔ ایرانی افسران کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے اسکولوں کی عمارتیں تباہ یا نقصان کا شکار ہوئی ہیں۔ تعلیمی اداروں کو پہنچے نقصان کی وجہ سے بچوں کی تعلیم پر منفی اثرات پڑے ہیں۔ ساتھ ہی کئی مقامات پر طلبا و اساتذہ کی ہلاکتوں کی بھی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایران نے بین الاقوامی طبقہ سے اس معاملہ پر توجہ دینے اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مستقل جاری حملوں کی وجہ سے ملک میں تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
Published: undefined
اس درمیان ایران کا جوابی حملہ بھی جاری ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ایرانی ریوولوشنری گارڈس کارپس (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تل ابیب اور ایلات میں اسرائیلی فوج اور فوجی صنعتی کمپنیوں پر حملہ کر شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آئی آر جی سی نے کہا کہ ان ہوائی حملوں میں اسرائیلی ٹھکانوں اور مشینری کو تباہ کیا گیا۔ اسرائیل کی طرف سے اب تک اس دعویٰ پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن اس علاقہ میں سیکورٹی الرٹ اور اینٹی میزائل سسٹم فعال ہیں۔ یہ حملے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو مزید بڑھانے والے ہیں۔
Published: undefined
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی طرف سے میزائلوں کی نئی لہر داغی گئی ہے۔ اس وجہ سے ملک کے کئی خطوں میں ہوائی سیکورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوجیوں نے بیان میں بتایا ہے کہ ان کی ایئر ڈیفنس سسٹم ان میزائلوں کو پہچان کر روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسرائیل کے ہوم فرنٹ کمانڈ نے یروسلم اور تل ابیب خطوں میں الرٹ کے لیے سائرن بھی بجائی ہے۔ دوسری طرف یو اے ای کی وزارت دفاع نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی نئی لہر کی بات کہی ہے اور بتایا ہے کہ اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ وزارت نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ یہ حملے ایران کی طرف سے کیے جا رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined