دیگر ممالک

ایران نے گوگل اور مائکروسافٹ سمیت کئی ٹیک کمپنیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی

ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اب صرف فوجی اہداف ہی نہیں بلکہ بڑی امریکی ٹیکنالوجی اور دفاعی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی اے این ایس</p></div>

تصویر آئی اے این ایس

 

ایران کی جانب سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اب تنازع ایک نئے اور غیر روایتی رخ اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اب صرف فوجی اہداف ہی نہیں بلکہ بڑی امریکی ٹیکنالوجی اور دفاعی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مطابق یہ کمپنیاں امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور امریکی حکمتِ عملی کی معاونت کر رہی ہیں، جس کے باعث انہیں ممکنہ اہداف کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

Published: undefined

اطلاعات کے مطابق ایران نے 18 بڑی امریکی کمپنیوں کی ایک فہرست تیار کی ہے، جن میں ایپل ، گوگل اور مائکروسافٹ سمیت کئی کمپنیاں ہیں۔ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ کمپنیاں امریکی اور اسرائیلی فوجی و انٹیلیجنس اداروں کے ساتھ تعاون کرتی ہیں، اس لیے انہیں جوابی کارروائی میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر کسی ایرانی رہنما کو نشانہ بنایا گیا تو خلیجی ممالک میں موجود امریکی کمپنیوں کے دفاتر اور مفادات پر حملے کیے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر مائکرو سافٹ اور ایپل کے دفاتر دبئی اور ابو دھابی میں واقع ہیں، جو ممکنہ خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔

Published: undefined

ایران نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں ایران کے خلاف منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق سائبر حملوں کے پیچھے بھی انہی کمپنیوں کا ہاتھ ہے، اور ایران اپنی دفاعی حکمتِ عملی کے تحت ہر ممکن اقدام کرے گا۔

Published: undefined

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے ایک اعلیٰ فوجی افسر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جو مبینہ طور پر امریکی-اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔ اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، اور اب کارپوریٹ دنیا بھی اس تنازع کے دائرے میں آتی نظر آ رہی ہے، جو عالمی سطح پر ایک نئے خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined