چین: کوئلہ کان دھماکہ میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 90 پہنچی، صدر جنپنگ نے افسران کو دی خاص ہدایت
چینی صدر شی جنپنگ نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ زخمیوں کے علاج اور بچاؤ کاری میں کسی طرح کی لاپروائی نہیں ہونی چاہیے۔ انھوں نے حادثہ کی پوری جانچ کرنے اور قصورواروں کو سخت سزا کا بھی حکم دیا۔

چین کے شمالی صوبہ شانشی میں ایک کوئلہ کان میں ہونے والے خوفناک گیس دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 90 ہو گئی ہے۔ اسے سال 2009 کے بعد چین کا سب سے بڑا اور خطرناک کان حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سرکاری میڈیا شنہوا کے مطابق یہ حادثہ جمعہ (22 مئی 2026) کی دیر شب کنیوان کاؤنٹی کی لیوشینیو کوئلہ کان میں پیش آیا۔ اس وقت کان میں 247 مزدور کام کر رہے تھے۔
کارپوریٹ ڈاٹا بیس کیچاچا کے مطابق اس کان کا انتظام و انصرام شانشی تونگژو گروپ لیوشینیو کول انڈسٹری دیکھتی ہے۔ کمپنی کی بنیاد 2010 میں رکھی گئی تھی اور اسے شانشی تونگژو کول کوکنگ گروپ کنٹرول کرتا ہے۔ مقامی ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ حادثے کے بعد بڑے پیمانے پر راحت اور بچاؤ مہم چلائی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی دھماکے کی وجوہات کی جانچ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ شانشی صوبہ چین کا سب سے بڑا کوئلہ کانکنی والا علاقہ سمجھا جاتا ہے اور یہاں بڑی تعداد میں کوئلہ کانیں موجود ہیں۔
اس درمیان چین کے صدر شی جنپنگ نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ زخمیوں کے علاج اور بچاؤ کاری میں کسی قسم کی لاپروائی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے حادثہ کی مکمل تحقیقات کرنے اور قصوروار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کرنے کے احکامات بھی دیے ہیں۔ علاوہ ازیں چینی وزیر اعظم لی چیانگ نے بھی بروقت اور درست معلومات فراہم کرنے اور ذمہ داری طے کرنے پر زور دیا ہے۔
شنہوا کی رپورٹ کے مطابق کان کے انتظام سے وابستہ کمپنی کے اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دوسری طرف کنیوان ایمرجنسی مینجمنٹ بیورو نے بتایا کہ شانشی صوبے سے 755 افراد پر مشتمل 7 ریسکیو اور طبی ٹیمیں موقع پر روانہ کی گئی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ چین میں کوئلہ کانوں میں حفاظتی معیارات کو لے کر پہلے بھی سنگین سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اگرچہ 2000 کے بعد حکومت نے قوانین سخت کیے، جس کے نتیجے میں حادثات میں کمی آئی۔ حالانکہ 16 سال قبل 2009 میں ہیلونگ جیانگ صوبے میں کوئلہ اور گیس کے ایک دھماکہ میں 108 افراد ہلاک اور 133 افراد زخمی ہوئے تھے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
