’مجھے انصاف چاہیے‘، رکن پارلیمنٹ اقرا حسن سے گلے لگ کر روئیں مقتول آدتیہ کی دادی
اقرا حسن نے مہلوک آدتیہ کی دادی اور ماں کو گلے لگا کر ہمدردی کا اظہار کیا۔ انھوں نے متاثرہ کنبہ کو ایک لاکھ روپے کی امدادی رقم سونپی اور کہا کہ غم کے اس لمحہ میں وہ متاثرہ کنبہ کے ساتھ کھڑی ہیں۔
سہارنپور کے عیسوپور گاؤں میں آدتیہ قتل معاملہ کے بعد درد، آنسو اور انصاف کی اپیل کا ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے ہر کسی کو جذباتی کر دیا۔ متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے پہنچیں کیرانہ کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کے سامنے آدتیہ کی بزرگ دادی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔ دادی نے رکن پارلیمنٹ کو گلے لگاتے ہوئے کہا ’’بیٹی… مجھے انصاف چاہیے، میرے بچے کو ختم کر دیا…۔‘‘ یہ سنتے ہی وہاں موجود لوگوں کی آنکھیں نم ہو گئیں اور ماحول مکمل طور پر غمزدہ ہو گیا۔
رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے مرحوم آدتیہ کی دادی اور والدہ کو گلے لگا کر دلاسہ دیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو میں رکن پارلیمنٹ بھی انتہائی جذباتی نظر آ رہی ہیں، جبکہ خاندان مسلسل انصاف اور ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق اقرا نے متاثرہ خاندان کو ایک لاکھ روپے کی مالی امداد بھی دی اور کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ مضبوطی کے ساتھ خاندان کے ساتھ کھڑی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آدتیہ کا قتل انتہائی دردناک اور افسوسناک واقعہ ہے۔ مجرموں کو سخت سزا دلانے کے لیے وہ انتظامیہ اور سینئر افسران سے مسلسل رابطے میں رہیں گی۔ رکن پارلیمنٹ نے پولیس افسران کو غیر جانبدارانہ اور گہری جانچ کرتے ہوئے جلد از جلد پوری حقیقت سامنے لانے کی ہدایت بھی دی۔
قابل ذکر ہے کہ گنگوہ تھانہ علاقے کے عیسوپور گاؤں میں واقع قابض سنگھ آئی ٹی آئی کالج میں 21 سالہ آدتیہ کھٹانا گزشتہ تقریباً 3 برسوں سے سیکورٹی گارڈ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ 10 مئی کی صبح اس کی لاش کالج سے تقریباً 100 میٹر دور ایک کھیت میں خون آلود حالت میں ملی تھی۔ لاش پر تیز دھار اسلحے سے کیے گئے کئی گہرے زخم پائے گئے تھے، جبکہ آنکھ پر بھی شدید چوٹ کے نشانات ملے تھے۔ واقعہ کے بعد پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی تھی۔
قتل کی اطلاع ملتے ہی دیہی عوام اور اہل خانہ میں شدید غصہ پھیل گیا تھا۔ جب پولیس لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے جانے لگی تو مقامی لوگوں نے سڑک پر لاش رکھ کر جام لگا دیا اور ملزمین کی گرفتاری اور انکاؤنٹر کا مطالبہ کرنے لگے۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری ہنگامے کے بعد افسران کی یقین دہانی پر جام ختم کیا گیا۔ اس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کلیدی ملزم آشو ولد دیویندر کو ایک مڈبھیڑ کے بعد گرفتار کر لیا تھا۔
اس واقعہ کے 13 دن گزر جانے کے بعد بھی عیسوپور گاؤں میں غمگین فضا قائم ہے اور خاندان انصاف کی امید لگائے بیٹھا ہے۔ گاؤں میں ہر طرف آدتیہ کا ذکر ہو رہا ہے اور لوگ اس واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو نے لوگوں کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ کوئی اسے انسانیت کی تصویر قرار دے رہا ہے تو کوئی آدتیہ کے خاندان کے درد کو انصاف کی سب سے بڑی پکار کہہ رہا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آدتیہ انتہائی پُرسکون طبیعت کا نوجوان تھا اور محنت کر کے اپنے خاندان کا سہارا بن رہا تھا۔ اس کے قتل کے بعد خاندان مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ علاقے کے لوگ مسلسل انتظامیہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں شامل تمام ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات پر روک لگائی جا سکے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
