ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے نقشہ پر امریکی پرچم والی تصویر کی پوسٹ، عالمی سطح پر خوف اور گھبراہٹ کا ماحول قائم

امریکی صدر نے کوئی واضح تبصرہ شامل کیے بغیر صرف ایک تصویر پوسٹ کی ہے۔ تصویر میں ایران کا نقشہ ہے اور اس پر امریکی پرچم لگا ہے۔ تصویر پر لکھا ہے ’یونائیٹڈ اسٹیٹس آف مڈل ایسٹ؟‘

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونائڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ایسا لگتا ہے جیسے مشرق وسطیٰ میں کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ شاید امریکہ جلد ہی کوئی بڑا قدم اٹھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ اندیشے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ایک تازہ سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر پوسٹ کی ہے، جس میں ایران کے نقشہ پر امریکی پرچم دکھائی دے رہا ہے۔ اس ایک تصویر نے پوری دنیا میں خوف اور گھبراہٹ کا ماحول قائم کر دیا ہے۔

امریکی صدر نے کوئی واضح تبصرہ شامل کیے بغیر صرف ایک تصویر پوسٹ کی ہے۔ تصویر میں ایران کا نقشہ ہے اور اس پر امریکی پرچم لگا ہے۔ تصویر پر لکھا ہے ’یونائیٹڈ اسٹیٹس آف مڈل ایسٹ؟‘ یہ تصویر اہم بن گئی ہے کیونکہ یہ پوسٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے ہی کافی کشیدگی چل رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ یعنی خلیجی ممالک میں حالات پہلے سے ہی کشیدہ ہیں۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی کئی بار ایران کے خلاف سخت بیانات دے چکے ہیں۔


ظاہر ہے، اس کشیدگی والے ماحول میں جب ایران کے نقشہ پر امریکی پرچم والی تصویر سامنے آئی ہے تو لوگ اسے صرف ایک تصویر نہیں سمجھ رہے۔ اس تصویر کے مختلف معنی نکالے جا رہے ہیں۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ امریکہ کی طاقت دکھانے کی کوشش ہے، یعنی ایران کو یہ پیغام دینا کہ امریکہ کتنا طاقتور ہے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ ایران پر دباؤ ڈالنے کی ایک چال ہے، تاکہ ایران خوف محسوس کرے اور امریکہ کی بات مانے۔

دوسری طرف بعض سیاسی ماہرین نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی پوسٹ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔ فکر مندی اس بات پر بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ پر تصویر کے ساتھ کچھ بھی تحریر نہیں کیا ہے۔ نہ کوئی وضاحت دی ہے اور نہ ہی کوئی بیان جاری کیا ہے۔ یہی بات اس پوسٹ کو پراسرار بنا رہی ہے۔ لوگ اپنی طرف سے اندازے لگا رہے ہیں اور اپنے حساب سے ہی مطلب بھی نکال رہے ہیں۔


’ٹروتھ سوشل‘ پر کی گئی یہ پوسٹ محض ایک سوشل میڈیا پوسٹ ہے یا اس کے پیچھے کوئی بڑی حکمت عملی کارفرما ہے، فی الحال یہ واضح نہیں ہے۔ تاہم اس نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ امریکہ کی جانب سے پہلے ہی ایک بڑا اشارہ سامنے آ چکا ہے۔ امریکی میڈیا ادارے ’ایکسیوس‘ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف نئے فوجی حملوں کے امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر آخری وقت کی بات چیت کسی امن معاہدے تک نہیں پہنچتی تو امریکہ ایران پر دوبارہ حملے کر سکتا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔