دیگر ممالک

ایران امن معاہدہ کو خطرہ لاحق! نیتن یاہو پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، امریکی خفیہ ایجنسیوں نے ٹرمپ حکومت کو کیا خبردار

اسرائیل میں بھی حزب اللہ کے خلاف کارروائی کو وسیع حمایت مل رہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق 70 فیصد اسرائیلی یہودی حزب اللہ کے خلاف جنگ مزید تیز کرنے کے حق میں ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ڈونالڈ ٹرمپ/بنجامن نیتن یاہو (فائل)</p></div>

ڈونالڈ ٹرمپ/بنجامن نیتن یاہو (فائل)

 

امریکی خفیہ ایجنسیوں نے ڈونالڈ ٹرمپ حکومت کو خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو ایسے اقدامات اٹھا سکتے ہیں جس سے امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے امن معاہدے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یعنی امن معاہدہ معاملہ میں نیتن یاہو پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ اور سابقہ امریکی افسران کے مطابق نیتن یاہو پر اپنے ملک میں شدید سیاسی دباؤ ہے اور وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ امریکی خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل لبنان میں فوجی آپریشن روکنے کے بجائے اسے جاری رکھنے کے حق میں نظر آ رہا ہے۔ جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس ہفتے ہونے والے 14 نکات پر مشتمل معاہدے کی ایک اہم شرط لبنان میں جنگ کا خاتمہ ہے۔ اسی وجہ سے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

Published: undefined

واضح رہے کہ جمعہ (19 جون) کو اسرائیل نے جنوبی لبنان میں متعدد فضائی حملے کیے۔ یہ کارروائی حزب اللہ کے ایک ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی، جس میں 4 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد خطے میں تناؤ بڑھ گیا اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والا امریکہ-ایران مذاکرہ ملتوی کر دیا گیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جو اس مذاکرہ میں شریک ہونے والے تھے، انہوں نے بھی اپنا دورہ منسوخ کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کو رواں سال انتخابی چیلنج کا سامنا ہے۔ امریکی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ اگر وہ لبنان سے فوج واپس بلاتے ہیں یا حزب اللہ کے خلاف کارروائی کم کرتے ہیں، تو اسرائیل میں اسے ان کی شکست سمجھی جائے گی۔ اسی وجہ سے وہ مسلسل سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔

Published: undefined

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل ٹرمپ انتظامیہ کے امن معاہدے سے پوری طرح خوش نہیں ہے۔ اسرائیل کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ ایران پر دباؤ کم کر سکتا ہے اور حزب اللہ کے خلاف اس کی کارروائی کو محدود کر سکتا ہے۔ حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اسرائیل کو دفاع کا حق دیتا ہے اور اگر حزب اللہ حملہ کرتا ہے تو اسرائیل جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل میں بھی حزب اللہ کے خلاف کارروائی کو وسیع حمایت مل رہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق 70 فیصد اسرائیلی یہودی حزب اللہ کے خلاف جنگ مزید تیز کرنے کے حق میں ہیں۔ اکتوبر 2023 سے جاری تنازعہ میں شمالی اسرائیل کے ہزاروں لوگ اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت حزب اللہ کی طاقت کو پوری طرح ختم کرے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined