شام کے سابق صدر بشار الاسد کو عدالت نے سنائی موت کی سزا
شام کے سابق صدر اسد کی حکومت 8 دسمبر 2024 کو حیات تحریر الشام اور اس سے وابستہ مسلح گروہوں کے حملے کے بعد گر گئی تھی۔ شام میں اپنی حکومت گرنے کے بعد بشار الاسد اپنے خاندان کے ساتھ ماسکو چلے گئے تھے۔

شام کے سابق صدر بشار الاسد اور کئی سابق افسران کو عدالت نے موت کی سزا سنائی ہے۔ مقامی میڈیا نے منگل (11 اگست) کو بتایا کہ انہیں مخالفین کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے، پہلے سے منصوبہ بند قتل، تشدد اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم مانا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ان کا عہدہ سب سے اعلیٰ تھا، لیکن انہوں نے اس کے وقار کا لحاظ نہیں رکھا اور قانون کی خلاف ورزی کی۔ شامی عرب نیوز ایجنسی ’ثنا‘ نے بتایا کہ عدالت نے بشار الاسد کے ماموں زاد بھائی اور درعا شہر میں سابق پولیٹیکل سیکورٹی چیف عاطف نجیب کو بھی موت کی سزا سنائی ہے۔ سابق صدر عدالت میں موجود نہیں تھے، وہ فی الحال روس میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
عدالت نے مفرور لؤی علی العلی، ماہر حافظ الاسد، فہد جاسم الفریج، محمد ایمن عیوش، قصیٰ ابراہیم مہیوب، وافق صالح ناصر اور طلال فارس العیسمی کو بھی سزائے موت کا فرمان سنایا۔ واضح رہے کہ شام کے سابق صدر اسد کی حکومت 8 دسمبر 2024 کو حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) اور اس سے وابستہ مسلح گروہوں کے حملے کے بعد گر گئی تھی۔ شام میں اپنی حکومت گرنے کے بعد بشار الاسد اپنے خاندان کے ساتھ ماسکو چلے گئے تھے۔
دسمبر 2024 میں دمشق چھوڑنے کے بعد بشار الاسد نے ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے روس جانے سے قبل کے مشکل لمحات کا ذکر کیا۔ انہوں نے یہ بیان ’سیرین پریسیڈنسی‘ کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ کے ذریعے جاری کیا۔ بشار الاسد نے کہا کہ ان کے جانے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور وہ 8 دسمبر کی صبح تک دمشق میں ہی رہے اور اپنی ذمہ داری پوری کی۔ جب مسلح تنظیمیں دمشق میں داخل ہوئیں، تو انہوں نے لتاکیہ منتقل ہونے کے لیے روسی دوستوں سے بات کی، تاکہ وہاں سے فوجی مہم جاری رکھی جا سکے۔
بشار الاسد کے بیان کے مطابق روس کے حمیمیم ایئر بیس پر پہنچنے پر انہیں احساس ہوا کہ شام کی باقی تمام فوجی چوکیاں ختم ہو چکی تھیں اور گراؤنڈ فورس فرنٹ لائن سے پیچھے ہٹ گئی تھیں۔ جیسے جیسے حالات بگڑتے گئے اور روسی بیس پر ڈرون حملے ہونے لگے تو ماسکو نے 8 دسمبر کی شام کو فوری طور پر ان کی روانگی کا انتظام کیا۔ ’سنہوا‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا کہ پناہ مانگنے یا اپنا عہدہ چھوڑنے کا خیال پہلے کبھی نہیں آیا تھا اور کہا کہ ان کے پاس لڑائی جاری رکھنے کا واحد راستہ یہی تھا۔
