امریکہ-ایران کشیدگی، قومی آواز گرافکس
امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ تقریباً 6 ماہ سے جاری جنگ روز بروز مزید خوفناک ہوتی جا رہی ہے۔ ’دی ہل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں کی وجہ سے بحرین واقع امریکی بحریہ کے اہم فوجی اڈے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس حملہ کے بعد امریکی بحریہ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ اس فوجی اڈے کے ساتھ آگے کیا کیا جائے۔
’دی ایپوک ٹائمز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سینئر امریکی افسر کاؤ نے بحرین واقع ’امریکی بحری بیس‘ پر حملہ کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے حملے کی شدت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے بحرین میں تباہی مچا دی۔ یہ حملہ ’نیول سپورٹ ایکٹیویٹی بحرین‘ (این اے ایس بی) اڈے پر ہوا، جو امریکی بحریہ کی سنٹرل کمانڈ اور یو ایس ففتھ فلیٹ کا مرکزی ہیڈکوارٹر ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب سے امریکہ اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران پر فضائی حملے کیے ہیں، تب سے یہ اڈہ مسلسل ایران کے نشانے پر رہا ہے۔ یہ اڈہ مغربی ایشیا میں امریکی بحریہ کی کارروائیوں کے لیے ایک اہم لاجسٹکس مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔ اب اس فوجی اڈہ پر بھاری تباہی کے بعد یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ امریکی فوجی اس اڈے پر کب تک واپس لوٹ سکیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر، یعنی 31 اگست کو ایک ٹاؤن ہال کے دوران چیف آف نیول آپریشنز ایڈمرل ڈیرل کاڈل نے واضح کر دیا تھا کہ فوجی فی الحال وہاں واپس نہیں لوٹنے والے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنا ذاتی سامان نکالنے کے لیے بھی ابھی وہاں نہیں جا سکتے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم جلد بازی میں وہاں واپس نہیں جا رہے ہیں، میں اس بارے میں پوری طرح واضح اور ایماندار رہنا چاہتا ہوں۔ بحریہ اب یہ جانچ کر رہی ہے کہ اس فوجی اڈے کی مرمت کی جانی چاہیے یا نہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان یہ تنازعہ صرف بحرین تک محدود نہیں ہے، بلکہ پورے خطے میں امریکی فوجی اڈے اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے اردن کے مواقف سالٹی ایئر بیس پر کیے گئے بیلسٹک میزائل حملے میں امریکہ کے کئی طیاروں کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک اے-10 تھنڈربولٹ طیارے کا ایک پنکھ غائب ہو گیا، جبکہ تقریباً 8 ایف-15 جنگی طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا، جنہیں بعد میں مرمت کر کے دوبارہ سروس میں شامل کر لیا گیا۔ اس حملے کے دوران امریکی فوج نے 30 سے زیادہ پیٹریاٹ میزائل داغے تھے۔
جیسے جیسے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ بڑھ رہا ہے، ایرانی افواج نے امریکی بحری اثاثوں اور شپنگ سے متعلق مفادات کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکہ نے ایران کے 5 آئل ٹینکرز پر حملے کیے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خود واشنگٹن کے کردار کی تصدیق کی اور مستقبل میں بھی ایسے حملے جاری رہنے کی وارننگ دی۔ لیکن ایران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ خاموش نہیں بیٹھے گا اور ہر حملے کا جواب پوری شدت کے ساتھ دیا جائے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔