مسلمانوں کو گربا میں شرکت کی ضرورت کیوں ہے؟: اے آئی ایم آئی ایم کا سوال

اے آئی ایم آئی ایم کے قومی ترجمان وارث پٹھان نے گربا تنازعہ پر کہا، "مسلمانوں کو گربا میں شرکت کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟ ایسی جگہوں پر کیوں جائیں جہاں آپ کی عزت پر سوالیہ نشان لگایا جاتا ہے؟"

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

مسلم ارکان کے گربا تقریبات میں شرکت پر پابندی عائد کرنے سے متعلق وی ایچ پی کے موقف پر سیاست گرم ہو گئی ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے قومی ترجمان وارث پٹھان نے اس معاملے پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ذاتی طور پر مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گربا کی تقریبات میں شرکت سے گریز کریں۔ انہوں  نے مسلمانوں سے سوال کیا  کہ ایسی جگہوں پر کیوں جاتے ہو جہاں تمہاری عزت پر سوالیہ نشان ہو۔ اے آئی ایم آئی ایم کے قومی ترجمان وارث پٹھان نے گربا تنازعہ پر کہا، "میری بات بالکل واضح ہے۔ میں تمام مسلمانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ’’ آپ کو گربا میں جانے کی کیا ضرورت ہے؟ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ایسی جگہوں پر کیوں جائیں جہاں آپ کی عزت پر سوالیہ نشان ہوتا ہے۔ وہاں آپ کی کوئی عزت یا وقار نہیں ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ "وہ آپ سے کہتے ہیں کہ تلک پہن کر آئیں اور یہ سب کریں، ایسی جگہوں پر مت جائیں، مجھے بتائیں کہ اسلام میں کہاں کہا گیا ہے کہ گربا یا ڈانڈیا کھیلا جائے، پھر کیوں جائیں؟ آپ بس نہ جائیں، معاملہ ختم ہو گیا، اگر لوگ آپس میں بات کر رہے ہیں تو انہیں کرنے دیں، آپ وہاں نہ جائیں، آپ وہاں جائیں گے، وہ آپ کو ماریں گے۔‘‘


اے آئی ایم آئی ایم کے قومی ترجمان وارث پٹھان نے گجرات میں منعقد ہونے والے 72 ویں نیشنل فلم ایوارڈز پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا، "اگر آپ یہ ساری چیزیں گجرات بھیج دیتے ہیں تو مہاراشٹر میں کیا رہ جائے گا؟ آپ نے وہاں ٹی ٹوئنٹی کا فائنل منعقد کیا، بعد میں آپ نے وہاں کرکٹ کے دیگر ایونٹ بھی منعقد کیے، آپ سب کچھ گجرات لے جا رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "بالی ووڈ یہاں ہے۔ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ مہاراشٹر میں شروع ہوا تھا۔ ایک دن آپ راشٹرپتی بھون کو بھی گجرات لے جائیں گے۔ آپ وہاں مہاراشٹر کی قانون ساز اسمبلی کی عمارت کو بھی لے جائیں گے۔ آپ سب کچھ گجرات لے جائیں گے۔ ممبئی ملک کی اقتصادی راجدھانی ہے، اس لیے یہ تقریب یہاں ہونی چاہیے۔ میرے خیال میں سب کچھ گجرات بھیجنا ٹھیک نہیں ہے۔"